ہمارے معاشرے میں چھپکلی کو لے کر بے شمار خوف اور غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ بچپن سے ہی یہ بات عام سننے کو ملتی ہے کہ اگر چھپکلی کھانے یا دودھ میں گر جائے تو وہ جان لیوا زہر بن جاتا ہے، یا اگر یہ کاٹ لے تو انسان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ لیکن کیا جدید سائنس اور حیاتیاتی تحقیق (Zoological Research) ان دعوؤں کی تصدیق کرتی ہے؟
سائنسی شواہد، ماہرینِ حشرات اور زولوجسٹس کی تحقیقات کی روشنی میں اس حقیقت کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
1. سائنسی حقیقت: کیا گھریلو چھپکلی میں زہر ہوتا ہے؟
حیاتیاتی سائنس کی رو سے گھروں کی دیواروں پر پائی جانے والی عام چھپکلی (جس کا سائنسی نام Hemidactylus ہے اور عام اصطلاح میں اسے House Gecko کہا جاتا ہے) مکمل طور پر غیر زہریلی (Non-Venomous) ہوتی ہے۔
زہر کی غدود کی عدم موجودگی: سانپ یا زہریلے بچھوؤں کے برعکس، عام گھریلو چھپکلی کے جبڑوں یا جسم میں زہر پیدا کرنے والے غدود (Venom Glands) سرے سے موجود ہی نہیں ہوتے۔
کاٹنے کا اثر: اگر کوئی چھپکلی دفاع میں کاٹ بھی لے تو اس کا دانت انتہائی چھوٹا ہوتا ہے جو انسانی جلد کو بمشکل نقصان پہنچا سکتا ہے، اور اس کے لعاب (Saliva) میں کوئی کیمیائی زہر شامل نہیں ہوتا۔
2. دنیا کی اصل زہریلی چھپکلیاں کون سی ہیں؟
دنیا بھر میں چھپکلیوں کی ہزاروں اقسام پائی جاتی ہیں، لیکن زہریلی چھپکلیاں نایاب ہیں اور وہ برصغیر کے عام گھروں میں قطعی نہیں پائی جاتیں۔
ماضی میں طویل عرصے تک یہ مانا جاتا تھا کہ دنیا میں صرف دو ہی چھپکلیاں زہریلی ہیں:
گیلا مونسٹر (Gila Monster): جو صرف امریکا اور میکسیکو کے صحرائی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔
میکسیکن بیڈڈ لزرڈ (Mexican Beaded Lizard): یہ بھی میکسیکو اور گوئٹے مالا کے مخصوص خطوں تک محدود ہے۔
بعد کی سائنسی تحقیقات میں کوموڈو ڈریگن (Komodo Dragon) اور مانیٹر لزرڈ کی بعض اقسام میں ہلکے زہریلے مرکبات کا انکشاف ہوا، لیکن ان کا تعلق بھی ہمارے گھروں میں گھومنے والی چھوٹی چھپکلیوں سے دور دور تک نہیں۔
3. اگر چھپکلی زہریلی نہیں، تو کھانے میں گرنے پر لوگ بیمار کیوں ہوتے ہیں؟
اکثر یہ خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ کھانے یا چائے کی دیگ میں چھپکلی گرنے سے لوگ ہسپتال پہنچ گئے۔ اگر چھپکلی میں زہر نہیں ہوتا تو ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ زہر نہیں بلکہ بیکٹیریا اور انفیکشن ہے۔
سالمونیلا بیکٹیریا (Salmonella Bacteria): رینگنے والے جانوروں (Reptiles) کی جلد اور آنتوں میں قدرتی طور پر “سالمونیلا” نامی خطرناک جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ یہ وہی بیکٹیریا ہے جو شدید فوڈ پوائزننگ (Food Poisoning)، ٹائیفائیڈ، قے، پیچش اور پیٹ کے انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔
گندگی اور کیڑے مکوڑے: چھپکلیاں گندے مقامات پر رہنے والے کیڑے، مچھر اور مکھیاں کھاتی ہیں۔ اس عمل میں ان کی جلد پر بے شمار نقصان دہ بیکٹیریا چپک جاتے ہیں۔
کھانے میں گلنا اور سڑنا: اگر چھپکلی کسی گرم سالن، دودھ یا چولہے پر رکھے برتن میں گر کر مر جائے اور کھانا کافی دیر پڑا رہے، تو بیکٹیریا تیزی سے پھیل کر کھانے کو زہریلا (Bacterial Contamination) بنا دیتے ہیں۔ یہ زہر چھپکلی کا اپنا کیمیائی زہر نہیں بلکہ بیکٹیریل انفیکشن ہوتا ہے۔
خوف اور نفسیاتی دباؤ (Psychological Shock): کئی بار انسان صرف یہ دیکھ کر کہ کھانے میں چھپکلی موجود تھی، گھبراہٹ، متلی اور دل کی تیز دھڑکن کا شکار ہو جاتا ہے، جسے طبی اصطلاح میں “پینک اٹیک” کہا جاتا ہے۔
4. گھریلو ماحول میں چھپکلی کے ماحولیاتی فوائد
خوف کی علامت سمجھی جانے والی چھپکلی درحقیقت ہمارے گھر کے ماحولیاتی نظام کے لیے ایک قدرتی کیڑے مار دوا (Natural Pest Controller) کا کام کرتی ہے:
یہ ملیریا اور ڈینگی پھیلانے والے مچھروں کا شکار کرتی ہے۔
گھر میں موجود نقصان دہ مکڑیوں، لال بیگ اور کیڑے مکوڑوں کی آبادی کو قابو میں رکھتی ہے۔
5. بچاؤ اور احتیاطی تدابیر
اگرچہ چھپکلی میں قدرتی زہر نہیں ہوتا، لیکن صفائی اور صحت کے اصولوں کے تحت چند احتیاطیں ضروری ہیں:
کھانے پینے کی اشیاء ڈھانپ کر رکھیں: پکے ہوئے کھانے، آٹا اور پینے کا پانی ہمیشہ مضبوط ڈھکن سے ڈھانپ کر رکھیں۔
اگر چھپکلی کھانے میں گر جائے: ایسے کھانے کو ہرگز استعمال نہ کریں اور فوری طور پر ضائع کر دیں، کیونکہ اس میں سالمونیلا بیکٹیریا کا خطرہ ہوتا ہے۔
ہاتھوں کی صفائی: اگر غلطی سے چھپکلی کو ہاتھ لگ جائے تو فوراً صابن اور اینٹی سیپٹک سے اچھی طرح ہاتھ دھوئیں۔
گھر سے بھگانے کے قدرتی طریقے: چھپکلی کو مارنے کے بجائے مور کے پر، انڈے کے خالی چھلکے، یا پیاز اور لہسن کے ٹکڑے ان کے ٹھکانوں پر رکھ کر انہیں گھر سے دور رکھا جا سکتا ہے۔
گھریلو چھپکلی کے زہریلے ہونے کا نظریہ محض ایک روایتی مفروضہ ہے۔ یہ ایک بے ضرر اور غیر زہریلا جاندار ہے، البتہ اس سے لاحق ہونے والا اصل خطرہ زہر نہیں بلکہ وہ بیکٹیریا اور جراثیم ہیں جو اس کے جسم پر پائے جاتے ہیں۔ اس لیے خوفزدہ ہونے کے بجائے کچن اور خوراک کی بنیادی صفائی پر توجہ دینا ہی دانشمندی ہے۔