Environmental Cost of AI_MotherNaturePK

صرف 100 الفاظ کی ای میل اور پانی کی ایک پوری بوتل کا ضیاع — اے آئی ٹیکنالوجی کا ماحولیاتی اثر

ٹیکنالوجی کی چمکتی دنیا اور پسِ پردہ حقیقت موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ہماری زندگیوں کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) اور اس جیسے دیگر بڑے لسانی ماڈلز نے انسانوں کے کام کرنے، لکھنے اور سوچنے کے انداز کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب آپ اے آئی سے ایک مختصر سا سوال پوچھتے ہیں یا ایک چھوٹی سی ای میل لکھواتے ہیں، تو پسِ پردہ کتنا قدرتی سرمایہ خرچ ہوتا ہے؟ حالیہ سائنسی تحقیقات نے ایک ایسا چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے جس نے ماحولیاتی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

تحقیق کے مطابق: چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) کے ذریعے صرف 100 الفاظ پر مشتمل ایک عام سی ای میل تیار کروانے میں تقریباً پانی کی ایک معیاری بوتل (آدھا لیٹر) جتنا پانی صرف ہو جاتا ہے۔

ڈیٹا سینٹرز: پانی اور بجلی کے بے رحم صارفین جب ہم انٹرنیٹ یا اے آئی ٹولز کا استعمال کرتے ہیں، تو ہمارا ڈیٹا ہوا میں پروسیس نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے بڑے بڑے “ڈیٹا سینٹرز” (Data Centers) چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ان سینٹرز میں ہزاروں طاقتور کمپیوٹرز اور سرورز نصب ہوتے ہیں جو انتہائی تیز رفتاری سے ڈیٹا پروسیس کرتے ہیں۔ اس عمل کے دوران یہ سرورز شدید گرمی پیدا کرتے ہیں۔

ان قیمتی اور حساس سرورز کو پگھلنے یا خراب ہونے سے بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر کولنگ سسٹمز (Cooling Systems) کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان سسٹمز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے کروڑوں گیلن صاف پانی استعمال کیا جاتا ہے، جو زیادہ تر بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے جو بجلی پیدا کی جاتی ہے، اس کے پاور پلانٹس بھی پانی کا ایک بڑا حصہ استعمال کرتے ہیں۔

ایک سیشن کی قیمت: پانی کا بے دریغ زیاں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ایک تحقیق کے مطابق، اے آئی ماڈلز کی تربیت (Training) اور ان کا روزمرہ استعمال دونوں ہی پانی کے شدید ضیاع کا سبب بن رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، جی پی ٹی-3 (GPT-3) کی تربیت کے دوران ہی لاکھوں لیٹر پانی صرف ہو گیا تھا، جو کہ ایک ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ کو ٹھنڈا کرنے یا کئی خاندانوں کی زندگی بھر کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی تھا۔ اب جبکہ کروڑوں صارفین روزانہ کی بنیاد پر ان ٹولز کو استعمال کر رہے ہیں، تو پانی کے استعمال کا یہ گراف ہولناک حد تک اوپر جا رہا ہے۔

ماحولیاتی بحران اور ہماری ذمہ داری دنیا پہلے ہی گلوبل وارمنگ، خشکسالی اور پینے کے صاف پانی کی قلت جیسے سنگین مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی یہ خاموش پانی کی کھپت آنے والے وقت میں پانی کے بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ گوگل، مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی جیسی بڑی کمپنیاں اگرچہ دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ مستقبل میں اپنے ڈیٹا سینٹرز کو ماحول دوست اور “واٹر پازیٹو” (Water Positive) بنائیں گی، لیکن موجودہ رفتار خطرناک ہے۔

ہم بطور صارف کیا کر سکتے ہیں؟ بطور ذمہ دار شہری اور صارف، ہمیں ٹیکنالوجی کے بے جا اور فضول استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔ ہر چھوٹے کام، جو ہم خود آسانی سے کر سکتے ہیں، کے لیے اے آئی پر انحصار کرنا ماحول کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ہمیں اے آئی ٹولز کا استعمال صرف اسی وقت کرنا چاہیے جب واقعی اس کی ضرورت ہو۔ یاد رکھیے، ڈیجیٹل دنیا میں آپ کا ایک کلک، حقیقی دنیا میں کسی کا پانی کم کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *