قدرت کے شاہکاروں میں جہاں خوبصورت اور خوشبودار پھول شامل ہیں، وہاں کچھ ایسے عجائبات بھی ہیں جو اپنی جسامت اور منفرد خصوصیات کی بنا پر انسان کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ ٹائٹن اروم ایک ایسا ہی پودا ہے جو اپنی غیر معمولی اونچائی اور مردہ جسم جیسی بو کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔
1. یہ پھول کہاں پایا جاتا ہے؟
ٹائٹن اروم بنیادی طور پر انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا (Sumatra) کے بارانی جنگلات (Rainforests) میں پایا جاتا ہے۔ اب اسے دنیا بھر کے مشہور نباتیاتی باغات (Botanical Gardens) میں بھی خاص دیکھ بھال کے ساتھ اگایا جاتا ہے۔
2. “لاش پھول” کیوں کہا جاتا ہے؟
اس پھول کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی بو ہے۔ جب یہ پھول کھلتا ہے، تو اس میں سے سڑتے ہوئے گوشت یا کسی مردہ جانور جیسی شدید بو آتی ہے۔
وجہ: یہ بو دراصل کیڑے مکوڑوں (جیسے گوشت خور مکھیاں اور بھونرے) کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے ہوتی ہے تاکہ وہ اس کی پولینیشن (Zeryari) میں مدد کر سکیں۔
3. حیرت انگیز جسامت
ٹائٹن اروم دنیا کا سب سے بڑا “غیر شاخدار پھول” (Unbranched Inflorescence) ہے۔
اس کی اونچائی 10 فٹ تک ہو سکتی ہے۔
اس کی پتی (جو ایک بڑے پیالے کی طرح ہوتی ہے) باہر سے سبز اور اندر سے گہرے سرخ یا جامنی رنگ کی ہوتی ہے۔
4. یہ پھول کب کھلتا ہے؟
یہ پودا بہت کم ہی کھلتا ہے۔ اسے پہلی بار کھلنے میں 7 سے 10 سال لگ سکتے ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ کھلنے کے بعد یہ صرف 24 سے 48 گھنٹے تک ہی کھلا رہتا ہے اور پھر مرجھا جاتا ہے۔ اسی لیے جب بھی دنیا کے کسی باغ میں یہ پھول کھلنے والا ہوتا ہے، تو اسے دیکھنے کے لیے ہزاروں سیاحوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔
5. درجہ حرارت کی تبدیلی
ایک اور حیران کن حقیقت یہ ہے کہ جب یہ پھول کھلتا ہے، تو یہ انسانی جسم کے درجہ حرارت کے برابر گرمی پیدا کرتا ہے۔ یہ حرارت اس کی بو کو دور دور تک پھیلانے میں مدد دیتی ہے تاکہ جنگل کے کیڑے اس کی طرف کھنچے چلے آئیں۔
خلاصہ: ٹائٹن اروم قدرت کا ایک انوکھا تحفہ ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ خوبصورتی صرف خوشبو میں نہیں بلکہ قدرت کے پیچیدہ نظام میں بھی چھپی ہوتی ہے۔