دریائے سندھ کا ماخذ سیفِد کول گلیشیئر جو تبّت میں کوہِ کیلاس کے قریب واقع ہے

رپورٹ: ماحولیاتی و جغرافیائی ڈیسک

دریائے سندھ — ایک ایسا دریا جو پاکستان کی شناخت، معیشت اور تہذیب سے جڑا ہوا ہے۔ مگر ایک بنیادی سوال آج بھی عام لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے: دریائے سندھ کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے؟ اس خصوصی نیوز/دستاویزی رپورٹ میں ہم آپ کو دریائے سندھ کے حقیقی ماخذ، اس کے جغرافیائی سفر اور مستقبل کو درپیش خطرات سے آگاہ کریں گے۔

دریائے سندھ: ایک تعارف

دریائے سندھ جنوبی ایشیا کے قدیم ترین اور طویل دریاؤں میں شمار ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی دریا ہزاروں سال پہلے وادیٔ سندھ کی تہذیب کا مرکز بنا، جس نے انسانی تاریخ میں زراعت، شہرکاری اور تجارت کی بنیاد رکھی۔

اعداد و شمار کے مطابق:

دریائے سندھ کی لمبائی تقریباً 3,180 کلومیٹر ہے

یہ دریا تین ممالک: چین (تبّت)، بھارت اور پاکستان سے گزرتا ہے

آخرکار سندھ کے ساحلی علاقے کے قریب بحیرۂ عرب میں جا گرتا ہے

دریائے سندھ کا اصل ماخذ: حقائق کیا کہتے ہیں؟

جغرافیائی تحقیق اور بین الاقوامی ماہرین کے مطابق دریائے سندھ کا اصل ماخذ تبّت (چین) میں واقع سیفِد کول گلیشیئر کو مانا جاتا ہے۔ یہ گلیشیئر دنیا کے مقدس اور بلند پہاڑی علاقے کوہِ کیلاس کے شمال میں واقع ہے۔

اسی گلیشیئر سے پگھلنے والا پانی ایک چھوٹی ندی کی شکل اختیار کرتا ہے جسے مقامی زبان میں سِنگی کھَبَب (Singi Khabab) کہا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ یہی ندی مختلف معاون ندی نالوں کو اپنے اندر سمو کر دریائے سندھ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

اہم نکات ایک نظر میں:

مقامِ آغاز: سیفِد کول گلیشیئر، تبّت

قریبی پہاڑ: کوہِ کیلاس

ابتدائی آبی دھارا: سِنگی کھَبَب

کوہِ کیلاس: جہاں ایشیا کے دریا جنم لیتے ہیں

ماہرینِ جغرافیہ کے مطابق کوہِ کیلاس کا خطہ دنیا کے چند منفرد مقامات میں شامل ہے، جہاں سے ایشیا کے چار بڑے دریا نکلتے ہیں:

دریائے سندھ

دریائے ستلج

دریائے برہم پتر

دریائے کرنالی

یہی وجہ ہے کہ اس علاقے کو بعض ماہرین “ایشیا کا آبی ٹاور” بھی قرار دیتے ہیں۔

دریائے سندھ کا طویل سفر

ماخذ سے نکلنے کے بعد دریائے سندھ درج ذیل علاقوں سے گزرتا ہے:

تبّت کے سرد و بلند پہاڑی میدان

لداخ (بھارت)

گلگت بلتستان (پاکستان)

خیبر پختونخوا

پنجاب کے زرخیز میدان

سندھ کے میدانی علاقے

آخر میں دریائے سندھ ٹھٹھہ اور بدین کے قریب ایک وسیع ڈیلٹا تشکیل دے کر بحیرۂ عرب میں شامل ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں دریائے سندھ کی حیثیت

ماہرین کے مطابق پاکستان میں زرعی نظام کا انحصار 90 فیصد سے زیادہ دریائے سندھ پر ہے۔ یہ دریا:

لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کرتا ہے

پن بجلی کا بڑا ذریعہ ہے (تربیلا، غازی بروتھا)

ماہی گیری اور روزگار کا اہم وسیلہ ہے

اسی لیے اسے پاکستان کی “لائف لائن” کہا جاتا ہے۔

گلیشیئرز اور موسمیاتی خطرات

ماحولیاتی رپورٹس خبردار کرتی ہیں کہ عالمی حدت کے باعث ہمالیہ اور تبّت کے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو:

مستقبل میں پانی کی قلت بڑھ سکتی ہے

اچانک سیلابوں کا خطرہ موجود رہے گا

دریائے سندھ کے قدرتی بہاؤ میں شدید عدم توازن آ سکتا ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کا تحفظ دراصل گلیشیئرز کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔

نتیجہ: ماخذ کو سمجھے بغیر مستقبل محفوظ نہیں

یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ دریائے سندھ کا حقیقی آغاز سیفِد کول گلیشیئر، تبّت سے ہوتا ہے۔ اگر اس خطے میں موسمیاتی تبدیلیوں کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے اثرات براہِ راست پاکستان تک محسوس کیے جائیں گے۔

دریائے سندھ صرف ایک دریا نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب، ایک معیشت اور ایک قوم کی بقا کی علامت ہے۔ اس کے ماخذ کا تحفظ، دراصل ہمارے مستقبل کا تحفظ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *