سائبیریا میں 35,000 سال پرانا خنجر دانتوں والا بچھڑا دریافت — سائنسدان حیران
یاکویا (Sakha)، روس — سائنسدانوں نے سائبیریا کے جمی ہوئے زیرِ زمین پرمافراسٹ سے ایک ناقابلِ یقین دریافت کی ہے: تقریباً 35,000 سال پرانا ممی شدہ (mummified) خنجر دانتوں والا بچھڑا (juvenile saber-toothed cat)، جس کے جسم کے نرم بافتیں، کھال، بال، مونچھیں اور پنجے حیرت انگیز حد تک محفوظ ہیں۔
یہ جانور Homotherium latidens نامی نسل سے تعلق رکھتا ہے — ایک ایسا قدیم شکاری بلی نما درندہ جو برفانی دور (Ice Age) میں رہتا تھا۔
برفانی دور کا عجب خزانہ
خوبصورت طور پر محفوظ جسم:
یہ بچہ تقریباً تین ہفتوں کا تھا جب وہ فوت ہوا، مگر پرمافراسٹ نے اس کے بال، جلد، مونچھیں، پنجے اور ناخن تک محفوظ رکھے۔
کیا یہ خنجر دانتوں والا ببر تھا؟
اس کا تعلق Homotherium گروپ سے ہے، جسے عام زبان میں “saber-toothed cat” کہا جاتا ہے، لیکن یہ وہی Smilodon (جسے عام طور پر saber-toothed tiger کہا جاتا ہے) نہیں ہے — مختلف لیکن ملتے جلتے شکاری درندے تھے۔
کیا یہ 36,000 سال پرانا ہے؟
ریڈی کاربن ڈیٹنگ کے مطابق یہ تقریباً 35,000 سال سے زیادہ پرانا ہے، یعنی Late Pleistocene دور سے تعلق رکھتا ہے۔
سائنس کے لیے اہمیت
یہ دریافت سائنسدانوں کو ماضی کے شکار کا بہت ہی قریبی منظر فراہم کرتی ہے — جس میں جلد، بالوں، عضلات، مونچھوں جیسی نازک خصوصیات بھی شامل ہیں۔
اب تک اکثر دریافتیں صرف ہڈیاں یا دانت ہوتی تھیں، لیکن اس بار ہمیں ایک حقیقی، محفوظ جسم ملا ہے جس سے ہم قدیم حیوانات کے ساخت، ماحول اور ارتقاء (evolution) کے بارے میں بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
کیا دوبارہ زندہ کرنا ممکن ہے؟
سوال اکثر یہی ہوتا ہے کہ کیا سائنس مستقبل میں DNA کی مدد سے ایسے معدوم جانوروں کو دوبارہ زندہ (de-extinct) کر سکتی ہے؟
فی الحال جواب:
اگرچہ کچھ DNA نمونے مل سکتے ہیں، لیکن مکمل جاندار کو دوبارہ زندہ کرنا آج کے سائنسی اور اخلاقی حدود کی وجہ سے بہت مشکل ہے۔ بنیادی مسائل یہ ہیں:
پرمافراسٹ میں محفوظ DNA عام طور پر بہت ٹکڑے ٹکڑے ہوتا ہے — پورا جینوم حاصل کرنا آسان نہیں۔
اگر مکمل جینوم بھی مل جائے، تو اسے فعال اور جاندار خلیوں میں تبدیل کرنا بہت پیچیدہ اور غیر یقینی عمل ہے۔
کلوننگ یا جین ایڈیٹنگ سے نئے جاندار بنانا ناقابلِ یقین حد تک چیلنجنگ ہے اور اس پر سائنسدان اور ethicists گہرے غور و فکر کر رہے ہیں۔
لہٰذا مستقبل میں DNA ٹیکنالوجی بہت ترقی کر سکتی ہے، لیکن اب تک معدوم جانوروں کو حقیقی معنوں میں واپس لانا عملی طور پر ممکن نہیں ہوا۔
آخر میں
یہ یونیورسل سائنس کی بڑی کامیابی ہے — نہ صرف ایک قدیم بچھڑا جسے ہم نے پہلی بار دیکھا ہے بلکہ وہ بھی عالمی سطح پر محفوظ حالت میں۔ پرمافراسٹ نے جیسے وقت کو کنجیر میں بند کر رکھا ہو — ایک چھوٹا سا دروازہ ہمیں ہزاروں سال پہلے کے ماحول، شکاریوں اور برفانی دور کی دنیا کی جھلک دکھاتا ہے۔
اگر آپ کو یہ دریافت حیران کن لگتی ہے یا آپ کے ذہن میں سوالات ہیں تو کمنٹس میں ضرور لکھیں!
