چین میں دریافت ہونے والا نایاب پودا جو زمین سے قیمتی دھاتیں جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے

چین کے ماہرینِ نباتات نے ایک ایسی حیرت انگیز دریافت کی ہے جو اسمارٹ فونز، الیکٹرک گاڑیوں اور جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ جنوبی چین کے صوبے جیانگ شی (Jiangxi) میں ایک ایسا پودا دریافت ہوا ہے جو زمین سے نایاب دھاتیں (Rare Earth Elements) جذب کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایک زندہ مقناطیس

یہ پودا، جو بظاہر ایک عام سی جھاڑی نظر آتا ہے، ان علاقوں میں تیزی سے پھلتا پھولتا ہے جہاں کی مٹی نایاب دھاتوں سے بھری ہوتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس پودے کی جڑیں مٹی سے لیتھینم (Lanthanum)، نیوڈیمیم (Neodymium) اور یٹریئم (Yttrium) جیسی قیمتی دھاتیں کھینچ کر اپنے پتوں اور ٹہنیوں میں جمع کر لیتی ہیں۔

تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ اس پودے میں ان دھاتوں کی مقدار عام مٹی کے مقابلے میں سینکڑوں گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اسے سائنسی اصطلاح میں “Hyperaccumulator” کہا جاتا ہے۔

“فائٹو مائننگ” (Phytomining): ایک نیا تصور

عام طور پر نایاب دھاتیں نکالنے کے لیے پہاڑوں کو کھودا جاتا ہے اور زہریلے کیمیکلز کا استعمال کیا جاتا ہے، جس سے ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ لیکن اس پودے کی دریافت نے “فائٹو مائننگ” کا راستہ کھول دیا ہے:

ایسی زمین پر یہ پودے اگائے جائیں جہاں یہ دھاتیں موجود ہوں۔

پودے زمین سے دھاتیں جذب کر کے اپنے اندر ذخیرہ کر لیں گے۔

فصل کی کٹائی کے بعد ان پودوں کو مخصوص طریقے سے جلا کر ان کی راکھ سے قیمتی دھاتیں حاصل کی جائیں گی۔

ماحول دوستی اور فوائد

اس دریافت کے بڑے فوائد درج ذیل ہو سکتے ہیں:

تباہ شدہ زمین کی بحالی: یہ پودا کان کنی سے متاثرہ بنجر زمین پر اگ کر مٹی کو صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔

سستی کان کنی: بھاری مشینری اور تیزاب کے استعمال کے بغیر خام مال حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ماحولیاتی تحفظ: اس طریقے سے زمین اور زیرِ زمین پانی کو زہریلے اثرات سے بچایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے

چینی ماہرِ ماحولیات کے مطابق، “یہ پودا فطرت کا ایک ایسا تحفہ ہے جو خاموشی سے وہ کام کر رہا ہے جو ہم مشینوں سے کرتے ہیں۔” تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ عمل سست ہے اور ابھی اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اسے بڑے پیمانے پر تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

خلاصہ

یہ چھوٹی سی سبز جھاڑی اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی کے لیے درکار معدنیات حاصل کرنے کے لیے ہمیں زمین کا سینہ چاک کرنے کے بجائے قدرت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *