دنیا کے سب سے آخری جنگلی گھوڑے — Przewalski’s Horse — جو کبھی جنگلی میں پایا جاتا تھا اور پھر انسان کی وجہ سے جنگل سے ختم ہو گیا تھا، اب ایک بار پھر واپس قدرتی رہائش-گاہوں میں لوٹنے لگا ہے۔
یہ گھوڑا جسے سائنسی زبان میں Equus ferus przewalskii کہا جاتا ہے، تقریبا 60 ملین سال پرانی ارتقائی تاریخ رکھتا ہے اور زمین پر زندہ واحد جنگلی گھوڑا ہے۔
تاریخی پسِ منظر
Przewalski’s Horse کبھی شمال-مغربی چین کے Junggar Basin اور مقامی منگولیا کے خشک صحرا نما علاقوں میں عام تھا، لیکن 20ویں صدی میں انسانی سرگرمیوں — جیسے شکار اور رہائش گاہوں کی تباہی — کی وجہ سے جنگلی نسل ختم ہو گئی۔
واپسی کا سفر
1985 میں چین نے ایک پروگرام شروع کیا جس کا نام “Wild Horse Return” رکھا گیا۔ اس پروگرام کے تحت چین نے بیرونِ ملک سے جنگلی گھوڑوں کو لایا اور ان کے لیے نسل بڑھانے کے مراکز بنائے، خاص طور پر شمال-مغربی چین کے Xinjiang اور Gansu صوبوں میں۔
طویل سائنسی تحقیق، ماحولیاتی بحالی اور قدرتی رہائش-گاہ کی بحالی کے ساتھ یہ جانور دوبارہ جنگل میں چھوڑے گئے، اور ان کی آبادی آہستہ آہستہ بڑھنے لگی۔
آج صورتحال
آج تک چین میں Przewalski’s Horse کی آبادی تقریباً 900 سے زیادہ ہو چکی ہے، جو دنیا کی کل آبادی کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ اس کامیابی کو ماحولیاتی تحفظ کی ایک شاندار مثال کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
یہ انمول جنگلی گھوڑا نہ صرف قدرتی تنوع میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ وہ جنگلی چراگاہوں کو محفوظ رکھتے اور دیگر انواع کے لیے بہتر ماحول فراہم کرتا ہے۔