پاکستان کی واحد میٹھے پانی کی ڈولفن — دریائے سندھ کی خاموش چیخ

انڈس بلائنڈ ڈولفن: ایک نایاب مخلوق، ایک مرتا ہوا دریا، اور ہماری ذمہ داری

دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ ہے، مگر اس دریا کے اندر ایک ایسی مخلوق بستی ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں — انڈس بلائنڈ ڈولفن۔ یہ دنیا کی نایاب ترین میٹھے پانی کی ڈولفنز میں شمار ہوتی ہے اور صرف پاکستان میں پائی جاتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ مخلوق خاموشی سے معدوم ہونے کے دہانے پر کھڑی ہے۔

تعارف: نابینا مگر حیرت انگیز

انڈس بلائنڈ ڈولفن تقریباً نابینا ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ دریائے سندھ کے گدلے پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کی آنکھیں تقریباً ختم ہو چکی ہیں، مگر قدرت نے اسے آواز کی لہروں کے ذریعے راستہ تلاش کرنے کی غیر معمولی صلاحیت دی ہے۔ یہ پانی میں الٹراسونک آوازیں خارج کرتی ہے اور ان کی بازگشت سے اپنا راستہ، خوراک اور خطرات پہچانتی ہے۔

یہ صلاحیت اسے دیگر مخلوقات سے منفرد بناتی ہے اور قدرت کی انجینئرنگ کا شاندار نمونہ ہے۔

تاریخی پس منظر

ایک وقت تھا جب یہ ڈولفن دریائے سندھ کے بڑے حصے میں پائی جاتی تھی، کشمیر سے لے کر بحیرہ عرب تک۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ انسانی مداخلت نے اس کے قدرتی مسکن کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔

آج یہ ڈولفن صرف چند مخصوص حصوں، خصوصاً سکھر بیراج اور گدو بیراج کے درمیان محدود ہو چکی ہے۔

معدومی کی وجوہات

انڈس بلائنڈ ڈولفن کو درپیش خطرات انسان کی پیدا کردہ ہیں:

صنعتی اور گھریلو آلودگی

زرعی کیمیکلز کا دریا میں بہاؤ

ڈیمز اور بیراج جو قدرتی راستے بند کر دیتے ہیں

غیر قانونی ماہی گیری اور جال

جب پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو ڈولفن اکثر نہروں میں پھنس جاتی ہے، جہاں وہ آہستہ آہستہ مر جاتی ہے۔

ماحولیاتی اہمیت

ڈولفن صرف ایک جانور نہیں بلکہ دریائے سندھ کی صحت کا اشاریہ ہے۔

اگر ڈولفن زندہ ہے، تو دریا زندہ ہے۔

اگر ڈولفن مر رہی ہے، تو سمجھ لیں دریا بیمار ہو چکا ہے۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق ڈولفن کی حفاظت دراصل پانی، مچھلیوں اور انسانی صحت کی حفاظت ہے۔

تحفظ کی کوششیں

خوش آئند بات یہ ہے کہ کچھ ادارے اور مقامی ماہی گیر ڈولفن کو بچانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ نہروں میں پھنسنے والی ڈولفنز کو واپس دریا میں چھوڑا جاتا ہے، اور آگاہی مہمات چلائی جا رہی ہیں۔

مگر یہ کوششیں ابھی ناکافی ہیں۔

ہماری ذمہ داری

انڈس بلائنڈ ڈولفن کا مستقبل صرف حکومت کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہم سب کے رویّوں سے جڑا ہے۔ صاف پانی، ذمہ دار ماہی گیری، اور قدرت کے احترام کے بغیر یہ مخلوق زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتی۔

نتیجہ

اگر ہم نے آج انڈس بلائنڈ ڈولفن کو بچا لیا، تو دراصل ہم نے اپنے دریا، اپنی زمین اور اپنی آنے والی نسلوں کو بچا لیا۔ یہ ڈولفن خاموش ہے — مگر اس کی چیخ ہم سب سن سکتے ہیں، اگر ہم سننا چاہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *