Fishing boat using powerful artificial lights for night light fishing in the Arabian Sea

لائٹ فشنگ: سہولت یا سمندری حیات کے لیے خطرہ؟

کراچی کے ساحلی علاقے ریڑھی گوٹھ کے رہائشی نواز علی دبلو کئی نسلوں سے ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ان کے مطابق سمندر میں مچھلیوں کی تعداد وقت کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث ماہی گیر اب جدید طریقوں کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک طریقہ لائٹ فشنگ ہے، جسے وہ نسبتاً آسان اور مؤثر قرار دیتے ہیں۔

نواز علی دبلو کا کہنا ہے کہ

“لائٹ فشنگ سے کم وقت میں زیادہ مچھلی مل جاتی ہے، اس لیے یہ طریقہ ہمارے لیے فائدہ مند ہے۔”

لائٹ فشنگ کیا ہے؟

لائٹ فشنگ ماہی گیری کا وہ طریقہ ہے جس میں تیز مصنوعی روشنی کے ذریعے مچھلیوں اور دیگر سمندری جانداروں کو کشتی کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ماہی گیروں کی کشتیوں پر طاقتور بیم لائٹس نصب کی جاتی ہیں، جن کا رخ سمندر کی گہرائی کی طرف ہوتا ہے۔ روشنی دیکھ کر چھوٹی مچھلیاں سطح کی جانب آتی ہیں، اور ان کے پیچھے بڑی مچھلیاں بھی پہنچ جاتی ہیں، جس سے شکار آسان ہو جاتا ہے۔

لائٹ فشنگ کے فوائد

1. کم وقت میں زیادہ شکار

یہ طریقہ روایتی ماہی گیری کے مقابلے میں زیادہ تیز اور مؤثر سمجھا جاتا ہے، کیونکہ مچھلی خود روشنی کی طرف آتی ہے۔

2. ایندھن اور محنت کی بچت

ماہی گیروں کو زیادہ دیر تک سمندر میں بھٹکنا نہیں پڑتا، جس سے ڈیزل اور انسانی محنت دونوں کی بچت ہوتی ہے۔

3. معاشی فائدہ

کم وقت میں زیادہ مچھلی ملنے سے ماہی گیروں کی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی اور کم ہوتی پیداوار کا سامنا کر رہے ہیں۔

لائٹ فشنگ کے نقصانات اور خدشات

1. سمندری حیات کو شدید نقصان

ماہرین کے مطابق لائٹ فشنگ سے چھوٹی مچھلیاں، انڈے اور ناپختہ سمندری جاندار بھی شکار ہو جاتے ہیں، جو مستقبل میں مچھلیوں کی نسل کے لیے خطرہ ہے۔

2. قدرتی توازن میں بگاڑ

یہ طریقہ سمندر کے قدرتی ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتا ہے، کیونکہ ہر قسم کی مچھلی بلا امتیاز جال میں آ جاتی ہے۔

3. مچھلیوں کے ذخائر میں تیزی سے کمی

غیر محتاط استعمال کے باعث پہلے ہی کم ہوتے مچھلیوں کے ذخائر مزید تیزی سے ختم ہو سکتے ہیں۔

4. قانونی اور اخلاقی سوالات

پاکستان سمیت کئی ممالک میں لائٹ فشنگ کو محدود یا غیر قانونی قرار دیا گیا ہے، تاہم کمزور نگرانی کے باعث اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔

ماہرین کی رائے

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر لائٹ فشنگ کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں تو کم از کم اس کے لیے واضح ضابطے، مخصوص موسم اور محدود روشنی کی شدت مقرر کی جانی چاہیے تاکہ سمندری وسائل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

نتیجہ

لائٹ فشنگ بظاہر ماہی گیروں کے لیے ایک آسان اور فائدہ مند طریقہ ہے، مگر طویل مدت میں یہ سمندر کی قدرتی دولت کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، ماہی گیر اور ماہرین مل کر ایسے حل تلاش کریں جو معاشی ضرورت اور ماحولیاتی تحفظ دونوں میں توازن قائم رکھ سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *