کشمیر کے برف پوش پہاڑوں میں معدوم ہوتی کستوری ہرن قدرتی مسکن میں

خاموش پہاڑوں کی ایک ناپید ہوتی آواز

کشمیر کے بلند و بالا پہاڑوں میں، جہاں گھنے جنگلات آہستہ آہستہ برفانی چراگاہوں میں بدل جاتے ہیں، ایک ایسا جانور رہتا ہے جسے بہت کم لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ پاتے ہیں — کستوری ہرن۔
یہ جانور نہایت خاموش، تنہا رہنے والا اور انسانوں سے دور پہاڑی جنگلات میں زندگی بسر کرتا ہے۔ مگر آج اس کی یہی خاموشی ہمیں ایک خطرناک حقیقت کی خبر دے رہی ہے: کستوری ہرن تیزی سے معدومی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

ایک انوکھا اور پراسرار ہرن

کستوری ہرن عام ہرنوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے:

اس کے سینگ نہیں ہوتے
نر ہرن کے منہ سے لمبے اور نوکیلے دانت نکلے ہوتے ہیں
نر ہرن کے جسم میں ایک خاص غدود ہوتا ہے جسے کستوری (Musk Pod) کہا جاتا ہے
یہی کستوری، جو خوشبوؤں اور روایتی ادویات میں استعمال ہوتی ہے، اس جانور کی سب سے بڑی کمزوری بن چکی ہے۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ کستوری حاصل کرنے کے لیے ہرن کو مارنا پڑتا ہے۔

کشمیر میں کتنے کستوری ہرن باقی ہیں؟

یہ شاید سب سے زیادہ تشویشناک سوال ہے — اور افسوسناک جواب یہ ہے کہ درست اعداد و شمار کسی کے پاس موجود نہیں۔

کستوری ہرن انتہائی دشوار گزار اور بلند پہاڑی علاقوں میں رہتا ہے، جہاں باقاعدہ مردم شماری ممکن نہیں۔ تاہم مقامی مطالعات اور مشاہدات کے مطابق:

نیلم ویلی (آزاد کشمیر) میں اندازاً 35 سے 60 کستوری ہرن باقی ہیں
مچیالہ نیشنل پارک میں یہ تعداد 30 سے 60 کے درمیان بتائی جاتی ہے
مجموعی طور پر پورے کشمیر میں چند سو سے بھی کم کستوری ہرن باقی رہ گئے ہیں

یہ تعداد ہر گزرتے سال کے ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے۔

خاموش مگر مہلک خطرات

غیر قانونی شکار

کستوری کی غیر قانونی تجارت آج بھی جاری ہے۔ ایک کستوری پوڈ لاکھوں روپے میں فروخت ہوتا ہے، جس کی وجہ سے شکاری اس نایاب جانور کا مسلسل پیچھا کرتے ہیں۔

مسکن کی تباہی

جنگلات کی بے دریغ کٹائی
بے جا چرائی
سڑکوں اور سیاحت کا غیر منصوبہ بند پھیلاؤ

یہ تمام عوامل کستوری ہرن کے قدرتی مسکن کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

🌡 ماحولیاتی تبدیلی

برف باری میں کمی اور درجہ حرارت میں اضافہ ان پہاڑی علاقوں کو بدل رہا ہے جہاں کستوری ہرن صدیوں سے رہتا آیا ہے۔

کستوری ہرن کیوں اہم ہے؟

کستوری ہرن محض ایک جانور نہیں بلکہ پہاڑی ماحولیاتی نظام کا اہم ستون ہے:

یہ پودوں کے قدرتی توازن کو برقرار رکھتا ہے
یہ برفانی چیتے اور دیگر شکاری جانوروں کی خوراک کا حصہ ہے
اس کی معدومی پورے پہاڑی ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے

اگر کستوری ہرن ختم ہو گیا، تو اس کا اثر صرف ایک نسل تک محدود نہیں رہے گا۔

اب بھی امید باقی ہے

تمام خطرات کے باوجود کچھ مثبت اشارے بھی موجود ہیں:

بعض علاقوں میں مقامی آبادی نے شکار ترک کر دیا ہے
محفوظ علاقوں میں ان کی تعداد نسبتاً مستحکم ہے
کیمرہ ٹریپس کے ذریعے نئی موجودگی کی تصدیق ہو رہی ہے

لیکن یہ کوششیں اب بھی ناکافی ہیں۔

عوام کو کیا جاننا اور کرنا چاہیے؟

کستوری ہرن شدید خطرے میں ہے
کستوری کی خرید و فروخت قانونی جرم ہے
جنگلات اور چراگاہوں کا تحفظ ناگزیر ہے
مقامی کمیونٹی کا کردار فیصلہ کن ہے
سائنسی تحقیق اور نگرانی فوری ضرورت ہے

اختتامی پیغام

اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں، تو ممکن ہے آنے والی نسلیں کستوری ہرن کو صرف کتابوں اور تصویروں میں دیکھیں۔
یہ وقت تماشائی بنے رہنے کا نہیں، بلکہ ذمہ داری اٹھانے کا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *