تھرپارکر کا قدرتی، مذہبی اور تہذیبی خزانہ

سندھ کے جنوب مشرق میں، تھرپارکر کے خشک مگر دلکش خطے میں واقع کارونجھر پہاڑ محض پتھروں کا ایک سلسلہ نہیں، بلکہ یہ صدیوں پر پھیلی تاریخ، عقیدے، ثقافت اور قدرتی حسن کا مجموعہ ہے۔ یہ پہاڑ اس دھرتی کی یادداشت ہے، جو خاموش رہ کر بھی سب کچھ محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

جغرافیہ اور قدرتی اہمیت

کارونجھر پہاڑ تقریباً 3000 فٹ بلند ہے اور یہ علاقہ تھر کے صحرائی ماحول میں ایک قدرتی دیوار کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پہاڑ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، مقامی نباتات کو زندہ رکھنے اور علاقے کے موسمی توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

بارشوں کے موسم میں کارونجھر سبز چادر اوڑھ لیتا ہے۔ پہاڑ کے دامن میں چشمے بہنے لگتے ہیں، نایاب پودے اگ آتے ہیں اور پرندوں کی آوازیں فضا کو زندہ کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ اسے زندگی کا پہاڑ کہتے ہیں۔

مذہبی اور تہذیبی ورثہ

کارونجھر پہاڑ جین مذہب کے ماننے والوں کے لیے انتہائی مقدس مقام ہے۔ یہاں موجود قدیم جین مندر اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ علاقہ کسی زمانے میں روحانیت اور عبادت کا مرکز تھا۔ یہ مندر پتھر کو تراش کر بنائے گئے، جو اس دور کی اعلیٰ فنِ تعمیر اور مہارت کو ظاہر کرتے ہیں۔

صدیوں پہلے، جین سادھو یہاں مراقبہ کیا کرتے تھے۔ آج بھی بھارت اور دنیا کے دیگر حصوں سے زائرین کارونجھر کا رخ کرتے ہیں تاکہ اپنی مذہبی جڑوں سے جُڑ سکیں۔

تاریخ کے اوراق میں کارونجھر

تاریخی روایات کے مطابق کارونجھر پہاڑ نے حملہ آوروں کے لشکر دیکھے، تجارتی قافلوں کو پناہ دی، اور مقامی آبادی کو قحط کے دنوں میں سہارا دیا۔ یہ پہاڑ صرف ایک قدرتی ڈھانچہ نہیں بلکہ تھر کی تہذیب کا محافظ رہا ہے۔

مقامی لوک کہانیوں میں کارونجھر کو ایک زندہ ہستی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے — ایک ایسا بزرگ جو سب دیکھتا ہے مگر بولتا نہیں۔

حیاتیاتی تنوع (Biodiversity)

کارونجھر کے دامن میں نایاب جڑی بوٹیاں، صحرائی پودے، مور، لومڑی، سانپ اور کئی اقسام کے پرندے پائے جاتے ہیں۔ یہ علاقہ تھر کے ماحولیاتی نظام کا دل سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق اگر کارونجھر کو نقصان پہنچا تو پورے تھر کے قدرتی توازن پر منفی اثر پڑے گا۔

خطرات اور موجودہ حقیقت

بدقسمتی سے آج کارونجھر پہاڑ شدید خطرات سے دوچار ہے۔

  • کان کنی (Mining)
  • پہاڑ کو توڑنے کے منصوبے
  • حکومتی اور سماجی بے توجہی

یہ سب عوامل اس تاریخی پہاڑ کو آہستہ آہستہ ختم کر رہے ہیں۔ اگر یہی روش جاری رہی تو آنے والی نسلیں کارونجھر کو صرف کتابوں اور تصویروں میں دیکھیں گی۔

کارونجھر ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

کارونجھر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قدرتی ورثہ صرف زمین کا حصہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہماری شناخت، تاریخ اور روح کا حصہ ہوتا ہے۔
جو قوم اپنی تاریخ اور قدرت کی حفاظت نہیں کرتی، وہ مستقبل بھی کھو دیتی ہے۔

نتیجہ

کارونجھر پہاڑ کو بچانا صرف تھرپارکر یا سندھ کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ یہ پہاڑ آج بھی کھڑا ہے — سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *