کراچی میں کتے کے کاٹنے کے بڑھتے واقعات: عوامی صحت کے لیے سنجیدہ خطرہ
سال 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی کراچی میں کتے کے کاٹنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ صرف چند دنوں میں 850 سے زائد افراد آوارہ کتوں کے حملوں کا شکار ہو چکے ہیں، جس نے شہریوں میں شدید خوف اور تشویش پیدا کر دی ہے۔
طبی رپورٹس کے مطابق انڈس اسپتال کورنگی میں تقریباً 300 مریض لائے گئے، جبکہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اور سول اسپتال کراچی میں بھی سینکڑوں کیسز رپورٹ ہوئے۔ زیادہ تر متاثرہ افراد کا تعلق کورنگی، لانڈھی، بلدیا، حب چوکی اور گڈاپ جیسے علاقوں سے ہے، جہاں آوارہ کتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ایک افسوسناک واقعے میں انڈس اسپتال میں 41 سالہ شخص کی انگلی شدید انفیکشن کے باعث کاٹنا پڑی، جو اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
عوامی آگاہی کیوں ضروری ہے؟
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے اور اگر اس کی علامات ظاہر ہو جائیں تو مریض کی جان بچانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اسی لیے شہریوں کو چاہیے کہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں:
زخم کو فوراً صاف پانی اور صابن سے دھوئیں
کسی بھی تاخیر کے بغیر قریبی اسپتال جا کر ریبیز ویکسین لگوائیں
گھریلو ٹوٹکوں یا لاپرواہی سے مکمل پرہیز کریں
سماجی کارکنوں کی رائے
سماجی کارکنوں اور عوامی فلاحی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف اسپتالوں تک محدود نہیں بلکہ شہری انتظامیہ کی ناکامی اور ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق:
آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن پروگرام کو مؤثر بنایا جائے
شہری علاقوں میں کچرے کے ڈھیر کم کیے جائیں کیونکہ یہی آوارہ کتوں کی افزائش کا باعث بنتے ہیں
عوام اور جانوروں دونوں کے تحفظ کو مدنظر رکھ کر انسانی اور مستقل حل نکالا جائے
سماجی کارکنوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ خوف یا اشتعال کے بجائے آگاہی پھیلائیں، بچوں پر خاص نظر رکھیں، اور کسی بھی واقعے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔
نتیجہ
کتے کے کاٹنے کے بڑھتے واقعات صرف ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ شہر کی مجموعی صحت اور حفاظت سے جڑا ہوا سنگین معاملہ ہیں۔ اگر عوام، انتظامیہ اور فلاحی ادارے مل کر فوری اور سنجیدہ اقدامات کریں تو اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
