اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی اور فضائی آلودگی کے خلاف احتجاج کرتے نوجوان

اسلام آباد کبھی اپنی ہریالی اور صاف ہوا کے لیے جانا جاتا تھا، لیکن آج یہاں کے باسی سانس لینے کے لیے صاف ہوا کو ترس رہے ہیں۔ ترقی کے نام پر بچھائے جانے والے سڑکوں کے جال اور گرتی ہوئی گرین بیلٹس نے شہر کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

احتجاج: ایک مجبوری

جب کسی شہر کا دم گھٹنے لگے تو احتجاج محض ایک انتخاب نہیں بلکہ مجبوری بن جاتا ہے۔ ڈی ڈبلیو اردو کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد کی سڑکوں پر نکلنے والے ان نوجوانوں کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے؛ ان کا مطالبہ صرف ایک ہے: “صاف ہوا کا حق”۔

ردّہ راشد اور ہانیہ عمران اس مہم کا ہراول دستہ ہیں، جو ریاست کو یہ باور کرا رہی ہیں کہ درخت کاٹ کر سڑکیں تو بنائی جا سکتی ہیں، لیکن ان سڑکوں پر چلنے والے انسانوں کی زندگی خطرے میں ہے۔

قانونی جنگ اور حکومتی رویہ

یہ معاملہ اب عدالت کی دہلیز تک پہنچ چکا ہے۔ ردّہ راشد کے مطابق، انہوں نے اسلام آباد کی بگڑتی ہوئی فضائی کیفیت (Air Quality) کے خلاف کیس دائر کیا ہے۔ تاہم، کئی سماعتوں کے باوجود تاحال کوئی بڑا عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق:

سی ڈی اے (CDA) کا مؤقف: انتظامیہ کے نمائندوں کا دعویٰ ہے کہ یہ کوئی قانونی کیس ہی نہیں بنتا۔

ماحولیاتی تباہی: مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہر روز سڑکیں بنانے کے لیے اسلام آباد کی گرین بیلٹس کو تباہ کیا جا رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر شہریوں کی روزمرہ زندگی اور صحت پر پڑ رہا ہے۔ کیا یہ ‘ایکوسائیڈ’ ہے؟

نوجوانوں کا عزم ہے کہ وہ اس ماحولیاتی قتل عام (Ecocide) کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے اور بااثر طبقات کا احتساب کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک آواز اٹھتی رہے گی، امید باقی رہے گی۔

دوسری جانب، حکومت کا مؤقف ہے کہ انہوں نے صرف 10 ہزار ‘پیپر ملبری’ کے درخت کاٹے ہیں کیونکہ وہ پولن الرجی کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن WWF پاکستان کے مطابق، درختوں کی کٹائی صرف پیپر ملبری تک محدود نہیں ہے، بلکہ بڑے انفراسٹرکچر منصوبے بھی ہریالی کے خاتمے کی بڑی وجہ ہیں۔

ایک اہم سوال

اصل سوال یہ نہیں کہ ردّہ راشد یہ قانونی جنگ جیتیں گی یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیسا ماحول چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ ]

فیصلہ اب شہریوں کے ہاتھ میں ہے: مزاحمت یا خاموشی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *