ہم میں سے اکثر لوگ کیلوں کو ایک صحت بخش اور توانائی سے بھرپور غذا سمجھتے ہیں۔ لیکن حالیہ چند برسوں میں ہونے والے کان کنی کے حادثات (Mining Disasters) نے ایک چھپے ہوئے خطرے کو جنم دیا ہے جو ہماری خوراک کی حفاظت پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔
کان کنی کا فضلہ اور زرعی زمین
جب کسی کان کا بند (dam) ٹوٹتا ہے یا کیمیکل کا اخراج ہوتا ہے، تو بھاری دھاتیں جیسے آرسینک، سیسہ (Lead)، اور کیڈمیم زمین میں جذب ہو جاتی ہیں۔ کیلے کے پودے اپنی جڑوں کے ذریعے پانی کے ساتھ ساتھ ان زہریلے اثرات کو بھی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کیلے میں موجود “خفیہ خطرات”
تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ آلودہ علاقوں میں اگنے والے کیلوں میں درج ذیل تبدیلیاں آ سکتی ہیں:
بھاری دھاتوں کی موجودگی: سیسہ اور کیڈمیم جیسے اجزاء انسانی اعصابی نظام اور گردوں کے لیے انتہائی مضر ہیں۔
غذائیت میں کمی: مٹی کی کیمیاوی تبدیلی کی وجہ سے پھل میں ضروری معدنیات (جیسے پوٹاشیم) کی مقدار کم ہو سکتی ہے۔
پانی کی آلودگی: کیلے کی کاشت کے لیے بہت زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔ اگر یہ پانی کان کنی کے فضلے سے متاثرہ ہو، تو پورا پھل زہریلا ہو جاتا ہے۔
اس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
بطور صارف، یہ جاننا مشکل ہے کہ پھل کہاں سے آیا ہے، لیکن درج ذیل احتیاطی تدابیر اپنائی جا سکتی ہیں:
سرٹیفائیڈ آرگینک (Certified Organic): کوشش کریں کہ ایسے برانڈز کا انتخاب کریں جو اپنی مٹی اور پانی کے ٹیسٹ کی رپورٹ فراہم کرتے ہوں۔
علاقائی آگاہی: اگر آپ کو معلوم ہو کہ کسی علاقے میں حال ہی میں کوئی ماحولیاتی حادثہ ہوا ہے، تو وہاں کی مقامی پیداوار سے کچھ عرصہ پرہیز کریں۔
حکومتی چیک اینڈ بیلنس: فوڈ اتھارٹیز کو چاہیے کہ وہ درآمد شدہ اور مقامی پھلوں میں “ہیوی میٹلز” کی سطح کو باقاعدگی سے چیک کریں۔
آخری بات
قدرت نے ہمیں بہترین نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن انسانی سرگرمیوں اور صنعتی حادثات نے ان نعمتوں کو آلودہ کر دیا ہے۔ ہمیں اپنی صحت کے لیے نہ صرف پھل کی ظاہری شکل بلکہ اس کے ماخذ (Source) پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔