کیا آپ نے کبھی کسی پرندے کو ہوا میں لڑکھڑاتے، درخت سے ٹکراتے یا زمین پر عجیب و غریب حرکتیں کرتے دیکھا ہے؟ پہلی نظر میں یہ کسی بیماری کا نتیجہ لگ سکتا ہے، لیکن اکثر اس کی وجہ بہت سادہ اور حیران کن ہوتی ہے: خمیر شدہ بیریز (Fermented Berries)۔
قدرت کے اس دلچسپ اور کسی حد تک مزاحیہ منظر کے پیچھے ایک مکمل سائنسی عمل چھپا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ یہ سب کیسے ہوتا ہے۔
یہ سب شروع کیسے ہوتا ہے؟
موسمِ سرما کے اختتام یا بہار کے آغاز میں، درختوں پر بچی ہوئی بیریز (جیسے کہ رابن یا ویکس ونگ پرندوں کی پسندیدہ بیریز) میں موجود چینی قدرتی طور پر خمیر (Fermentation) کے عمل سے گزرتی ہے۔
کیمیائی عمل: جب درجہ حرارت بار بار تبدیل ہوتا ہے (پہلے جمنا اور پھر پگھلنا)، تو بیریز کے اندر موجود قدرتی شکر ایتھنول (الکحل) میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
پرندوں کی خوراک: پرندے جب ان بیریز کو بڑی مقدار میں کھاتے ہیں، تو ان کے چھوٹے سے جسم میں الکحل کی مقدار تیزی سے اثر دکھاتی ہے۔
‘نشے’ میں دھت پرندوں کی علامات
جس طرح انسان الکحل کے زیرِ اثر اپنی حرکات و سکنات پر قابو کھو دیتے ہیں، پرندوں کے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی ہوتا ہے۔ آپ ان میں یہ نشانیاں دیکھ سکتے ہیں:
اڑان میں دشواری: سیدھا اڑنے کے بجائے لہرانا یا اونچائی کا درست اندازہ نہ لگا پانا۔
سستی: پرندوں کا زمین پر ساکت بیٹھ جانا اور انسانی موجودگی سے بے خوف ہو جانا۔
ٹکراؤ: اکثر پرندے کھڑکیوں یا درختوں سے ٹکرا جاتے ہیں کیونکہ ان کی بصارت (Vision) دھندلا جاتی ہے۔
کیا یہ پرندوں کے لیے خطرناک ہے؟
اگرچہ یہ دیکھنے میں تھوڑا مزاحیہ لگتا ہے، لیکن یہ ان ننھی جانوں کے لیے جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔
وہ شکاری جانوروں (جیسے بلیوں یا عقابوں) کا آسان ہدف بن جاتے ہیں۔
سخت سردی میں اگر وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر جائیں تو ہائپوتھرمیا (شدید ٹھنڈ) سے ان کی موت واقع ہو سکتی ہے۔
گاڑیوں یا عمارتوں سے ٹکرانا بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔
اگر آپ کو کوئی ایسا پرندہ ملے تو کیا کریں؟
اگر آپ کو اپنے صحن میں کوئی ایسا پرندہ ملے جو زخمی نہیں ہے لیکن “مدہوش” لگ رہا ہے، تو درج ذیل اقدامات کریں:
محفوظ جگہ: اسے اٹھا کر کسی گتے کے ڈبے میں رکھیں (جس میں ہوا کے لیے سوراخ ہوں)۔
آرام: اسے کسی اندھیری اور پرسکون جگہ پر رکھ دیں تاکہ اس کا ‘نشہ’ اتر سکے۔
پانی اور خوراک سے گریز: جب تک وہ پوری طرح ہوش میں نہ آ جائے، اسے کچھ نہ کھلائیں، ورنہ وہ دم گھٹنے سے مر سکتا ہے۔
رہائی: چند گھنٹوں بعد جب وہ دوبارہ متحرک نظر آئے، تو اسے باہر آزاد کر دیں۔
خلاصہ
قدرت ہمیں ہر موڑ پر حیران کرتی ہے۔ خمیر شدہ بیریز کھا کر پرندوں کا مدہوش ہونا ایک قدرتی عمل ہے، جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جنگلی حیات کا توازن کتنا حساس ہے۔ اگلی بار جب آپ کسی پرندے کو عجیب حرکتیں کرتے دیکھیں، تو سمجھ جائیں کہ شاید اس نے “نشہ آور” ناشتہ کر لیا ہے!