پاکستان میں ڈریگن فروٹ کی کاشت — حقائق، طریقہ کار اور منافع
ڈریگن فروٹ (جسے پٹایا بھی کہا جاتا ہے) ایک غیر ملکی ٹراپیکل پھل ہے جو اب پاکستان میں کامیابی کے ساتھ کاشت کیا جا رہا ہے۔ یہ کسانوں، زرعی کاروبار اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک منافع بخش موقع بن چکا ہے۔
پاکستان میں ڈریگن فروٹ کی مقبولیت کی وجوہات
زیادہ مانگ اور اعلیٰ قیمت: پاکستان میں تازہ ڈریگن فروٹ کی قیمتیں عموماً 1,500 سے 3,000 روپے فی کلو تک پہنچ جاتی ہیں کیونکہ مقامی پیداوار محدود ہے۔
صحت کے لیے مفید: یہ وٹامنز (C, A, B1–B3)، معدنیات (پوٹاشیم، کیلشیم، آئرن)، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔
قیمتی مصنوعات: تازہ پھل کے علاوہ، اسے جم، جیل، جوس، اسموتھی، آئس کریم اور مشروبات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کاشت کے لیے موزوں علاقے
ڈریگن فروٹ کی کاشت پاکستان کے کئی علاقوں میں ہو رہی ہے:
سندھ (کراچی اور ٹھٹھہ): یہاں کے موسمی حالات اور تجارتی فارم کامیاب ہیں۔
پنجاب (لاہور، شیخوپورہ اور سرگودھا): مختلف رنگوں کی اقسام کاشت کی جا رہی ہیں۔
کراچی کے علاقے گڈاپ اور لاہور: ڈیموسٹریشن فارم اور نرسریز میں اچھی پیداوار دیکھی گئی ہے۔
اہم بات: پاکستان-چین شراکت داری نے کراچی کے ساحلی نمکین علاقوں کو قابل کاشت بنایا ہے، جہاں ڈریگن فروٹ کی کامیاب کاشت ہو رہی ہے۔
کاشت کے حقائق
پلانٹ اور ضروری حالات
ڈریگن فروٹ ایک کینٹسیس (cactus) قسم کا پودا ہے جو اچھے پانی نکاسی والے زمین میں بہترین پیداوار دیتا ہے۔
یہ پودا 25 سال تک زندہ رہ سکتا ہے اور طویل مدتی منافع دیتا ہے۔
پودے کی پہلی پیداوار 18–26 ماہ بعد شروع ہوتی ہے۔
پیداوار
ابتدائی پیداوار: 2–3 ٹن فی ایکڑ۔
بالغ پودوں کی پیداوار: 5–10 ٹن فی ایکڑ تک، حالات اور انتظام پر منحصر۔
ہائی ڈینسٹی فارمنگ: 4,000 سے 8,000 پودے فی ایکڑ لگا کر پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے۔
فارمنگ سسٹمز
روایتی حلقہ سسٹم: تقریباً 1,600 پودے فی ایکڑ۔
ٹریلس اور ہائی ڈینسٹی سسٹم: 8,000 پودے فی ایکڑ، زیادہ سرمایہ کاری مگر زیادہ پید
منافع اور اقتصادی پہلو
آمدنی
بالغ اور ہائی ڈینسٹی فارم میں سالانہ 50 لاکھ سے 1 کروڑ روپے فی ایکڑ کی آمدنی ممکن ہے۔
کچھ اعلیٰ فارم بہتر انتظام اور مارکیٹ پر منحصر، دو ارب روپے سالانہ فی ایکڑ تک آمدنی کی توقع کرتے ہیں۔
منافع کا وقت
پہلے سال منافع کم ہو سکتا ہے، مگر دوسرے اور تیسرے سال سے پیداوار بڑھنے پر زیادہ منافع آتا ہے۔
پودا سال میں 3 بار پھل دیتا ہے، اس لیے مستقل آمدنی ممکن ہے۔
لاگت
ابتدائی لاگت میں پودے، ستون/ٹریلس، آبپاشی اور مزدوری شامل ہیں۔
قائم ہونے کے بعد سالانہ اخراجات کم ہوتے ہیں، خاص طور پر نامیاتی طریقے سے کاشت کرنے پ
چیلنجز
موسمی حساسیت: شدید سردی یا گرمی میں پودے متاثر ہو سکتے ہی
مارکیٹ کی ترقی: مقامی طلب زیادہ ہے لیکن برآمدی مارکیٹ ابھی محدود ہے۔
تحقیقی معاونت: مقامی زرعی تحقیق ابھی ڈریگن فروٹ کی صنعت کے مطابق محدود ہے۔
مستقبل کی توقعات
ڈریگن فروٹ کی کاشت پاکستان میں ابتدائی مگر امید افزا مرحلے میں ہے۔ اگر حمایتی پالیسیاں، بہتر کاشتکاری تکنیک اور مارکیٹ کی ترقی ہو تو یہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور برآمدات کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
