کیا درخت واقعی ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں؟
جنگل کی خفیہ دنیا، قدرت کا انٹرنیٹ اور انسان کے لیے ایک سبق

جب ہم کسی جنگل میں کھڑے ہوتے ہیں تو ہمیں صرف خاموش درخت نظر آتے ہیں۔ نہ آواز، نہ حرکت۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس خاموشی کے نیچے ایک ایسا زندہ نظام موجود ہے جو مسلسل رابطے میں رہتا ہے۔ جدید سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ درخت واقعی ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں — مگر الفاظ کے بغیر۔

خاموش مخلوق یا زندہ کمیونٹی؟

طویل عرصے تک درختوں کو بے جان سمجھا جاتا رہا، مگر تحقیق نے اس سوچ کو بدل دیا۔ کینیڈا کی ماہرِ جنگلات ڈاکٹر سوزین سمارد نے انکشاف کیا کہ جنگل کے درخت زمین کے نیچے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ ان کی جڑوں کے ساتھ فنگس کا ایک جال ہوتا ہے جسے Mycorrhizal Network کہا جاتا ہے، یا عام زبان میں Wood Wide Web۔

یہ نیٹ ورک درختوں کو خوراک، پانی اور معلومات کا تبادلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

Wood Wide Web کیسے کام کرتا ہے؟

فنگس کی باریک ریشے دار ساخت درختوں کی جڑوں سے جڑ جاتی ہے۔ اس کے ذریعے:

مضبوط درخت کمزور درختوں کو خوراک دیتے ہیں

بیمار درخت مدد کا سگنل بھیجتے ہیں

کیڑوں کے حملے کی اطلاع دی جاتی ہے

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے قدرت کا اپنا انٹرنیٹ ہو۔

خطرے کی گھنٹی — درختوں کا انتباہی نظام

جب کسی درخت پر کیڑے حملہ کرتے ہیں، تو وہ کیمیائی مادے خارج کرتا ہے جو فضا یا زمین کے ذریعے دوسرے درختوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس انتباہ کے بعد قریبی درخت اپنے پتوں میں زہریلے مادے پیدا کر لیتے ہیں تاکہ خود کو بچا سکیں۔

یہ نظام ثابت کرتا ہے کہ درخت صرف اپنی بقا کے بارے میں نہیں سوچتے بلکہ پورے جنگل کی حفاظت کرتے ہیں۔

“ماں درخت” کا تصور

تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ جنگل میں کچھ بڑے اور پرانے درخت Mother Trees کہلاتے ہیں۔ یہ درخت:

اپنے ننھے پودوں کو خوراک دیتے ہیں

سایہ فراہم کرتے ہیں

پورے جنگل کے نیٹ ورک کو مضبوط رکھتے ہیں

جب ایک ماں درخت کاٹا جاتا ہے تو پورا جنگل کمزور ہو جاتا ہے۔

انسان کے لیے سبق

درخت ہمیں سکھاتے ہیں کہ طاقت کا مطلب صرف خود زندہ رہنا نہیں، بلکہ دوسروں کو زندہ رکھنا بھی ہے۔
آج انسان ترقی کے نام پر جنگلات کاٹ رہا ہے، مگر وہ یہ بھول گیا ہے کہ وہ ایک جڑے ہوئے نظام کا حصہ ہے۔

جنگلات کی تباہی — نیٹ ورک کا خاتمہ

جب جنگلات کاٹے جاتے ہیں تو صرف درخت نہیں مرتے، بلکہ:

زمین کی زرخیزی ختم ہو جاتی ہے

پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے

موسمی نظام متاثر ہوتا ہے

Wood Wide Web ٹوٹ جاتا ہے، اور پورا نظام بکھر جاتا ہے۔

امید کی کرن

اگر جنگلات کو محفوظ رکھا جائے، درختوں کو سمجھداری سے کاٹا جائے، اور دوبارہ شجرکاری کی جائے، تو یہ قدرتی نیٹ ورک دوبارہ مضبوط ہو سکتا ہے۔

نتیجہ

درخت بولتے نہیں، مگر ان کا پیغام واضح ہے:
“ہم سب جڑے ہوئے ہیں۔ ایک کو نقصان پہنچے گا، تو سب متاثر ہوں گے۔”

یہ پیغام صرف جنگل کے لیے نہیں، انسانیت کے لیے بھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *