چانڈکا جاگیر میں واقع کتے کی قبر کا قدرتی منظر

چانڈکا جاگیر ضلع قمبر شہدادکوٹ میں واقع ایک نہایت حسین اور سرد قدرتی علاقہ ہے، جو گورکھ ہِل اسٹیشن سے بھی زیادہ ٹھنڈا سمجھا جاتا ہے۔ یہاں موجود مشہور مقام “کتے کی قبر” قدرتی خوبصورتی اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔ اس علاقے کے مناظر دیکھ کر سوات، مری اور کشمیر کی وادیاں یاد آ جاتی ہیں۔

چانڈکا جاگیر کی بلندیاں تقریباً 6000 فٹ تک ہیں، جبکہ کچھ محققین اس کی بلندی 6900 فٹ بتاتے ہیں۔ یہ علاقہ کیرتھر پہاڑی سلسلے میں واقع دڑھیار پہاڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ سرسبز پہاڑ، ٹھنڈی ہوائیں، قدرتی پانی کی چھوٹی ندیوں اور خاموش وادیوں کی وجہ سے یہ مقام ایک قدرتی جنت محسوس ہوتا ہے۔

کتے کی قبر کی کہانی

اس علاقے کا نام ایک مشہور تاریخی کہانی سے جڑا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک گاؤں والے نے ایک ہندو دکاندار سے ادھار لیا اور اپنی رقم پوری ادا نہ کر سکا، جس پر دکاندار نے اس کا کتا عارضی طور پر روک لیا۔ بعد میں اسی کتے نے دکاندار کی دکان کو چوری سے بچایا۔ کتے کی وفاداری سے متاثر ہو کر دکاندار نے نہ صرف کتے کو آزاد کر دیا بلکہ رقم بھی معاف کر دی۔

جب کتا واپس اپنے مالک کے پاس پہنچا تو مالک کو حقیقت معلوم ہوئی۔ اسے شدید افسوس ہوا اور اس نے محبت و احترام کے ساتھ کتے کو پہاڑ کی چوٹی پر دفن کر دیا۔ اسی وجہ سے اس مقام کو آج “کتے کی قبر” کہا جاتا ہے۔ اس کہانی کا ذکر 1885ء میں ایک انگریز افسر کی کتاب میں بھی ملتا ہے۔

قدرتی حسن اور جنگلی حیات

چانڈکا جاگیر صرف ایک تاریخی مقام ہی نہیں بلکہ یہ مختلف اقسام کے جانوروں اور پرندوں کا مسکن بھی ہے۔ یہاں کا قدرتی ماحول جنگلی حیات کے لیے موزوں ہے اور ماہرینِ ماحولیات کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اس علاقے میں موجود پرانی عمارتیں، انگریز دور کا پولیس تھانہ اور دیگر تاریخی نشانیاں بھی دلچسپی کا باعث ہیں۔

مسائل اور حکومتی غفلت

بدقسمتی سے یہ خوبصورت علاقہ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے کوئی پکی سڑک یا باقاعدہ ٹرانسپورٹ موجود نہیں۔ سیاح مقامی لوگوں کی مدد سے اونٹ یا گدھوں کے ذریعے یہاں پہنچتے ہیں۔ ماضی میں کچھ حکومتی شخصیات نے اس مقام کو ترقی دینے کے وعدے کیے، مگر وہ منصوبے مکمل نہ ہو سکے۔

نتیجہ

چانڈکا جاگیر سندھ کی فطرت کا ایک قیمتی اور نایاب تحفہ ہے۔ اگر حکومت اس علاقے پر توجہ دے، سڑکیں، سکیورٹی اور بنیادی سہولیات فراہم کرے تو یہ مقام نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کا ایک مشہور سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔ اس قدرتی حسن کو محفوظ کرنا اور دنیا کے سامنے لانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *