سندھ کے دریاؤں اور جھیلوں میں ایک خاموش مگر خطرناک مسئلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کا نام ہے کیٹ فِش (Catfish)۔ بظاہر یہ مچھلی عام اور معصوم دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ آبی ماحول کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس مسئلے پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو مقامی مچھلیاں مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہیں۔
کیٹ فِش کیا ہے؟
کیٹ فِش ایک ایسی مچھلی ہے جو تقریباً ہر قسم کے پانی میں زندہ رہ سکتی ہے۔ یہ گدلے پانی، کم آکسیجن اور مشکل حالات میں بھی آسانی سے اپنی افزائش جاری رکھتی ہے۔ یہی صلاحیت اسے دوسری مقامی مچھلیوں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور بناتی ہے۔
کیٹ فِش کیوں خطرناک ہے؟
کیٹ فِش انتہائی شکاری مچھلی ہے۔ یہ چھوٹی مچھلیاں، مچھلیوں کے انڈے اور بعض اوقات اپنی ہی نسل کو بھی کھا جاتی ہے۔ اس بے قابو خوراک کی وجہ سے مقامی مچھلیوں کو بڑھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ آہستہ آہستہ تالاب، جھیل یا دریا میں صرف کیٹ فِش ہی باقی رہ جاتی ہے۔
پانی کے قدرتی توازن پر اثرات
ہر دریا اور جھیل کا ایک قدرتی نظام ہوتا ہے جس میں ہر مچھلی کا اپنا کردار ہوتا ہے۔ کیٹ فِش اس نظام کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ جب مقامی مچھلیاں ختم ہونے لگتی ہیں تو پانی کا توازن بگڑ جاتا ہے، جس سے نہ صرف مچھلیاں بلکہ آبی پودے اور دوسرے جاندار بھی متاثر ہوتے ہیں۔
کیٹ فِش سندھ کے دریاؤں میں کیسے پہنچی؟
ماہرین کے مطابق کیٹ فِش کے پھیلاؤ کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ فِش فارمنگ ہے، جہاں یہ مچھلی تجارتی مقصد کے لیے پالی جاتی ہے۔ دوسری بڑی وجہ سیلاب ہیں۔ سیلاب کے دوران جب مچھلیوں کے تالاب ٹوٹ جاتے ہیں تو کیٹ فِش کھلے دریاؤں میں شامل ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ لاعلمی یا غلطی سے اس مچھلی کو دریاؤں میں چھوڑ دیتے ہیں۔
سیلاب اور کیٹ فِش کا پھیلاؤ
سیلاب کے وقت پانی کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس دوران تالاب اور فارم ٹوٹ جاتے ہیں، اور کیٹ فِش جیسے طاقتور جاندار آسانی سے دریاؤں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایک بار دریا میں داخل ہونے کے بعد یہ بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور اسے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔
مقامی ماہی گیروں پر اثر
کیٹ فِش کے پھیلاؤ سے مقامی ماہی گیر بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ روایتی اور قیمتی مچھلیاں کم ہوتی جا رہی ہیں، جس سے ان کی آمدنی میں کمی آ رہی ہے۔ کئی علاقوں میں ماہی گیر اب پہلے جیسی مچھلی حاصل نہیں کر پا رہے۔
ماہرین کی وارننگ
ماہرین ماحولیات خبردار کرتے ہیں کہ اگر کیٹ فِش کو کنٹرول نہ کیا گیا تو سندھ کی مقامی اور نایاب مچھلیاں صرف کتابوں اور کہانیوں تک محدود ہو جائیں گی۔ یہ مسئلہ صرف مچھلیوں کا نہیں بلکہ پورے آبی نظام کا ہے۔
ہم کیا کر سکتے ہیں؟
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سب سے پہلے آگاہی ضروری ہے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ کسی بھی غیر مقامی مچھلی کو دریاؤں یا جھیلوں میں چھوڑنا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ فِش فارمنگ کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے اور سیلاب کے بعد خصوصی نگرانی کی جائے۔
اختتامیہ
کیٹ فِش ایک خاموش قاتل کی طرح ہمارے دریاؤں میں پھیل رہی ہے۔ اگر ہم نے آج سنجیدہ قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں سندھ کی اصل مچھلیاں صرف تصاویر میں دیکھیں گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معلومات کو زیادہ سے زیادہ شیئر کیا جائے اور سب کو اس خطرے سے آگاہ کیا جائے۔
