Carbon credit projects explained: reality, impact, and environmental concerns

کاربن کریڈٹس سے حکومت کی کمائی کیسے ہوتی ہے؟

 درخت لگا کر یا جنگلات بچا کر “کاربن بچت” پیدا کی جاتی ہے

جب حکومت شجرکاری، مینگرووز بڑھانے یا جنگلات کے تحفظ کے منصوبے کرتی ہے، تو یہ ماحول سے CO₂ کم کرتی ہے۔

ہر 1 ٹن CO₂ کمی = 1 کاربن کریڈٹ

یہ ایک “سرٹیفائیڈ” یونٹ ہوتا ہے۔

 یہ کاربن کریڈٹس عالمی مارکیٹ میں فروخت کیے جاتے ہیں

دنیا کی بڑی کمپنیاں (جیسے: ایئرلائنز، ٹیک کمپنیاں، انڈسٹریز) اپنی آلودگی پورا کرنے کے لیے یہ کریڈٹ خریدتی ہیں۔

کیوں؟

کیونکہ وہ خود “کاربن نیوٹرل” نہیں ہو پاتیں۔

 یوں حکومت کاربن کریڈٹس بیچ کر ڈالر کماتی ہے۔

سندھ میں 350,000 ہیکٹر شجرکاری، 20 ملین ٹن CO₂ کمی، اور رقم—حقیقت یا صرف دعوے؟

پاکستان، خاص طور پر صوبہ سندھ، نے پچھلے کئی سالوں میں کاربن کریڈٹ اور شجرکاری کے بڑے منصوبے شروع کیے ہیں جن کا مقصد ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ آمدنی بھی کمانا بتایا جاتا ہے۔ ان میں سب سے بڑا اور مشہور منصوبہ Delta Blue Carbon (DBC) ہے، جو سندھ کی انڈس ڈیلٹا مینگرووز (جزائر) میں چل رہا ہے۔

اصل منصوبہ کیا ہے؟

Delta Blue Carbon (DBC) منصوبہ 2015 میں شروع ہوا اور یہ 350,000 ہیکٹر (تقریباً 3,500 مربع کلومیٹر) مینگرو وز جنگلات کی بازآبادکاری اور تحفظ پر مبنی ہے۔ اس میں آباد علاقوں کی شجرکاری، پرانی مینگرووز کا تحفظ، اور انہیں کاربن کریڈٹس میں بدلنا شامل ہے۔

کاربن کریڈٹ کیا ہیں؟

کاربن کریڈٹ ایک ماپنے کی اکائی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ ایک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ (یا اس کے مساوی) ماحول سے خارج ہونے سے روکا گیا یا جذب ہوا ہے۔ اسے عالمی مارکیٹ میں خریدا اور بیچا جاتا ہے، خاص طور پر ان ممالک اور کمپنیوں کے لیے جو اپنے اخراج کو کم ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔

رقم اور بیانات—زمین پر حقیقت کیا ہے؟

حکومت سندھ کے دعوے:

سندھ نے تقریباً $40 ملین (40 ملین ڈالر) کے کاربن کریڈٹس کی فروخت کی ہے۔

پالیسی کے مطابق، سندھ اگلے کئی دہائیوں میں کئی سو ملین ڈالر بھی کما سکتا ہے—مثلاً 2023 میں بتایا گیا کہ $200–220 ملین تک آمدنی ممکن ہے

دوسری رپورٹوں میں 2.88 ملین ٹن کاربن کریڈٹس کی فروخت سے تقریباً $14.7 ملین کی کمائی کا ذکر بھی آیا ہے۔

اہم حوالہ:
یہ اعداد و شمار سرکاری اعلانات اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں، لیکن ہر رپورٹ میں قدر یا بیان ایک جیسا نہیں ہے—جس کا مطلب ہے کہ نمبروں میں تضاد موجود ہے۔ مثال کے طور پر، ایک رپورٹ میں $40 ملین کی بات ہے، جبکہ ایک سرکاری تقریر میں مختلف مقدار بیان ہوئی۔

مانیٹرنگ اور ویریفیکیشن—سوال باقی کیوں؟

سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ مینگرووز کی مانیٹرنگ جاری ہے اور اس کے تحت شجرکاری اور تحفظ دونوں ہو رہے ہیں، لیکن:

متعدد رپورٹس میں تفصیلی فیلڈ ڈیٹا (مثلاً سال بہ سال شجرکاری کی تعداد، زندہ پودوں کی شرح، CO₂ جذب کی اصل مقدار) ہمیشہ عوامی طور پر دستیاب نہیں ہے۔

بعض تحریری عدالت کے مقدمات میں بھی شجرکاری اور پالیسی مکمل رپورٹیں نہیں دی گئیں یا غیر واضح رہیں۔

یہی باعث ہے کہ بہت سے ماہرین، عوام، اور این جی اوز سوال کرتے ہیں کہ آیا واقعی حقیقی جنگل اُگ رہے ہیں یا صرف کاربن کریڈٹس کے اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں۔

اہم سوالات جو ابھی بھی زیرِ بحث ہیں

کیا واقعی جنگل بڑھ رہے ہیں؟

جی ہاں، مینگرووز کی شجرکاری جاری ہے، اور پرو젝트 نے لائحہ عمل کے مطابق درخت لگائے ہیں، لیکن اصل ڈیٹا (مثلاً زندہ پودوں کی تعداد، سیکیورٹی اور بقا کی شرح) پوری طرح شفاف نہیں ہے۔

کاربن کریڈٹ کی رقم کہاں جا رہی ہے؟

رقم کا ایک حصہ حکومت اور نجی شراکت داروں کے درمیان بانٹا جاتا ہے، جیسے کچھ رپورٹس میں بتایا گیا کہ نجی فریق کو بھی بڑی حصہ داری ملتی ہے۔
حکومت کی طرف سے بجٹ رپورٹیں اور خرچ کی تفصیلات ہر بار عوامی طور پر مکمل طور پر دستاویزی شکل میں سامنے نہیں آتیں، جس سے شفافیت کے سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔

حساب کون دے گا؟

کاربن کریڈٹ مارکیٹ میں بین الاقوامی ویریفیکیشن اسٹینڈرڈز (جیسے Verra VCS) ہوتے ہیں جو ڈیٹا کی تصدیق کرتے ہیں، لیکن مقامی سطح پر عوام تک ڈیٹا پبلک نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے عوامی یقین دہانی کمزور رہتی ہے۔ 

اختتامی بات — سچ ابھی بھی فائلوں میں چھپا ہوا ہے

سندھ کے کاربن کریڈٹ منصوبے نے واقعی شجرکاری اور آمدنی دونوں کے بارے میں بڑے دعوے کیے ہیں، لیکن:

اصل اعداد و شمار اور ویریفائڈ ڈیٹا عوامی طور پر مکمل طور پر دستیاب نہیں ہیں۔
رقم کے استعمال اور شرحِ نمو میں مطابقت بھی ہمیشہ نظر نہیں آتی۔
عدالت اور پالیسی بحث نے شفافیت کے سوالات مزید بڑھا دیے ہیں۔

یہ سوالات ہیں جو ابھی تک صاف شفاف ڈیٹا اور رپورٹنگ کے منتظر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *