اونٹوں کا نام آتے ہی عام طور پر عرب ممالک، افریقہ یا برصغیر کے صحراؤں کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ آسٹریلیا میں بھی دنیا کی سب سے بڑی جنگلی اونٹوں کی آبادی موجود ہے۔ یہ کوئی افواہ یا سوشل میڈیا کی من گھڑت کہانی نہیں بلکہ ایک تاریخی اور ماحولیاتی حقیقت ہے جسے آسٹریلوی حکومت اور ماہرین ماحولیات تسلیم کرتے ہیں۔
اونٹ آسٹریلیا کیسے پہنچے؟
اونٹ آسٹریلیا کے مقامی جانور نہیں ہیں۔ انہیں پہلی بار انیسویں صدی (1840ء کے بعد) میں آسٹریلیا لایا گیا۔ اس وقت آسٹریلیا کے اندرونی صحرائی علاقوں میں سڑکیں اور ریل کا نظام موجود نہیں تھا، اس لیے سامان کی ترسیل اور سفر کے لیے اونٹوں کو بہترین ذریعہ سمجھا گیا۔
یہ اونٹ زیادہ تر بھارت، افغانستان اور عرب علاقوں کے قریب خطوں سے لائے گئے۔ ان کے ساتھ تجربہ کار اونٹ بان بھی آئے جنہیں آسٹریلیا میں “Ghans” کہا جاتا تھا۔ ان لوگوں نے آسٹریلیا کے صحراؤں کو عبور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اونٹ جنگلی کیسے بن گئے؟
جب بیسویں صدی کے آغاز میں موٹر گاڑیاں، ریل اور جدید ٹرانسپورٹ آ گئی، تو اونٹوں کی ضرورت کم ہوتی چلی گئی۔ نتیجتاً:
بہت سے اونٹ آزاد چھوڑ دیے گئے
کچھ اونٹ فرار ہو کر جنگل میں چلے گئے
چونکہ آسٹریلیا کے صحراؤں میں:
قدرتی دشمن موجود نہیں تھے
کھلا اور وسیع رقبہ تھا
اس لیے اونٹ تیزی سے بڑھنے لگے اور جنگلی (Feral) بن گئے۔
اونٹوں کی آبادی کتنی بڑھ گئی؟
2000ء کی دہائی کے آغاز میں ماہرین کے مطابق آسٹریلیا میں 10 لاکھ سے زائد جنگلی اونٹ موجود تھے، جو دنیا میں جنگلی اونٹوں کی سب سے بڑی آبادی سمجھی جاتی ہے۔
اگر ان کی تعداد کو کنٹرول نہ کیا جائے تو:
ان کی آبادی ہر 8 سے 10 سال میں دگنی ہو سکتی ہے
یہی بات آسٹریلوی عوام اور حکومت کے لیے تشویش کا باعث بنی۔
اونٹ مسئلہ کیوں بن گئے؟
1. ماحولیاتی نقصان
اونٹ بڑے جانور ہیں اور یہ درجنوں اقسام کے پودے کھاتے ہیں۔ ایک اونٹ روزانہ بہت زیادہ مقدار میں خوراک اور پانی استعمال کرتا ہے۔
اس کے نتیجے میں:
مقامی پودے ختم ہونے لگے
صحرائی توازن متاثر ہوا
کئی مقامی جانوروں کے خوراکی ذرائع کم ہو گئے
زمین کی کٹاؤ (erosion) میں اضافہ ہوا
2. پانی کے ذخائر کو نقصان
خشک سالی کے دوران اونٹ:
دیہات اور آبادیوں کے قریب آ جاتے ہیں
پانی کے ذخائر کو آلودہ یا برباد کر دیتے ہیں
مقامی لوگوں اور جنگلی جانوروں کے لیے پانی کی قلت پیدا ہو جاتی ہے
3. انسانی آبادی اور انفراسٹرکچر پر اثرات
جنگلی اونٹ:
فصلیں اور باڑیں توڑ دیتے ہیں
سڑکوں پر آ کر ٹریفک حادثات کا سبب بنتے ہیں
بعض اوقات دیہی آبادیوں میں گھس آتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ کئی آسٹریلوی علاقے اونٹوں کی بڑھتی آبادی سے شدید متاثر ہوئے۔
آسٹریلیا اس مسئلے سے کیسے نمٹ رہا ہے؟
اونٹوں کی تعداد پر کنٹرول
آسٹریلوی حکومت نے مختلف پروگرام شروع کیے جن میں:
مخصوص علاقوں میں اونٹوں کی تعداد کم کرنا
نگرانی کے نظام کے ذریعے ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا
کچھ علاقوں میں سخت فیصلے بھی کیے گئے تاکہ ماحول اور انسانی جان کو بچایا جا سکے۔
تجارتی استعمال
کچھ اونٹ:
گوشت اور دیگر مصنوعات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں
یا کنٹرول شدہ فارموں میں منتقل کیے جاتے ہیں
یہ طریقہ نسبتاً بہتر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے آبادی بھی کم ہوتی ہے اور معاشی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے۔
یہ مسئلہ ہمیں کیا سبق دیتا ہے؟
آسٹریلیا کے جنگلی اونٹ اس بات کی واضح مثال ہیں کہ:
اگر کسی غیر مقامی جانور کو قدرتی نظام میں بغیر منصوبہ بندی کے چھوڑ دیا جائے تو وہ سنگین ماحولیاتی مسئلہ بن سکتا ہے۔
