ایک زندہ وہیل کے جسم میں 19ویں صدی کا ہارپون دریافت
یہ واقعہ دنیا کے حیرت انگیز قدرتی واقعات میں سے ایک ہے۔ ماہرین نے ایک زندہ وہیل مچھلی دریافت کی جس کے جسم میں انیسویں صدی (1800ء کے آس پاس) کا ہارپون پھنسا ہوا تھا۔ یہ دریافت نہ صرف سائنسدانوں بلکہ تاریخ دانوں کے لیے بھی حیران کن تھی۔
حیرت انگیز دریافت
یہ وہیل آرکٹک (قطبی) سمندر میں دیکھی گئی۔ جب ماہرین نے اسے قریب سے دیکھا تو اس کے جسم میں ایک پرانا لوہے کا ہتھیار موجود تھا۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ہارپون ہے، جو تقریباً 100 سال سے زیادہ پرانا تھا۔
یہ ہارپون اس زمانے کا تھا جب وہیل مچھلی کا شکار عام تھا اور شکاری لکڑی کی کشتیوں سے ہاتھ سے ہارپون پھینکتے تھے۔
وہیل اتنے سال کیسے زندہ رہی؟
یہ وہیل بوہیڈ وہیل کہلاتی ہے، جو بہت لمبی عمر کے لیے مشہور ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق کچھ بوہیڈ وہیل 200 سال سے بھی زیادہ زندہ رہ سکتی ہیں۔
اس وہیل کے جسم میں ہارپون اس طرح پھنسا کہ کوئی اہم عضو متاثر نہیں ہوا، اسی وجہ سے وہ زندہ رہی اور وقت کے ساتھ اس کا جسم زخم کے ساتھ خود کو ٹھیک کرتا گیا۔
زندہ تاریخ
یہ وہیل صرف ایک جانور نہیں بلکہ ایک زندہ تاریخ تھی۔ جب اس پر ہارپون مارا گیا تھا:
نہ کاریں عام تھیں
نہ ہوائی جہاز موجود تھے
وہیل کا شکار ایک بڑی صنعت تھا
اس وہیل نے انسانوں کے بدلتے وقت کو خاموشی سے دیکھا۔
انسانیت کے لیے پیغام
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے:
ماضی میں وہیل کے شکار سے قدرت کو کتنا نقصان پہنچا
فطرت کتنی مضبوط اور برداشت والی ہے
انسان کے کیے گئے کاموں کے اثرات کتنے لمبے عرصے تک رہتے ہیں
نتیجہ
ایک زندہ وہیل کے جسم میں 19ویں صدی کا ہارپون ملنا ہمیں ماضی اور حال سے جوڑتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ قدرت کو نقصان پہنچانے کے فیصلے صدیوں تک اثر رکھتے ہیں۔ اس لیے سمندری حیات کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔
