روس کے وسیع و عریض ٹائیگا جنگلات کا فضائی منظر جہاں برف پوش درخت اور گھنی ہریالی نظر آ رہی ہے، جو ماحولیاتی تحفظ کی علامت ہیں۔

دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں اور بڑھتی ہوئی گرمی (Global Warming) کے شدید خطرے سے دوچار ہے۔ ایسے میں ماہرینِ ماحولیات کی نظریں روس کے ان وسیع و عریض جنگلات پر جمی ہوئی ہیں جنہیں “ٹائیگا” (Taiga) کہا جاتا ہے۔ یہ جنگلات نہ صرف رقبے کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے جنگلات ہیں بلکہ یہ کرہ ارض کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

رقبہ اور پھیلاؤ

روس کے یہ عظیم جنگلات تقریباً 81 لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اگر اس کا موازنہ عالمی سطح پر کیا جائے تو یہ پوری دنیا کے کل جنگلاتی رقبے کا 20 فیصد بنتا ہے۔ یہ علاقہ اتنا وسیع ہے کہ اس میں کئی بڑے ممالک سما سکتے ہیں۔ یہ برفانی جنگلات (Boreal Forests) کا ایک ایسا سلسلہ ہے جو روس کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلا ہوا ہے۔

کاربن ڈائی آکسائیڈ کا جذب ہونا: ایک قدرتی فلٹر

حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق، روسی ٹائیگا ہر سال فضا سے اربوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ وہ گیس ہے جو کارخانوں، گاڑیوں اور انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے اور زمین کے گرد ایک غلاف بنا کر گرمی کو قید کر لیتی ہے۔

روس کے یہ درخت ایک “قدرتی ویکیوم کلینر” کے طور پر کام کرتے ہیں، جو زہریلی گیسوں کو کھینچ کر آکسیجن خارج کرتے ہیں اور کاربن کو اپنی لکڑی اور مٹی میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ اس عمل کی وجہ سے عالمی حدت میں کمی آتی ہے۔

ایمازون سے بھی زیادہ اہمیت؟

عام طور پر برازیل کے ایمازون جنگلات کو “زمین کے پھیپھڑے” کہا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ روس کے ٹائیگا جنگلات کی اہمیت کسی صورت کم نہیں ہے۔ ایمازون کے جنگلات تیزی سے کٹائی کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ روس کے جنگلات کا ایک بڑا حصہ انسانی مداخلت سے محفوظ ہے، جس کی وجہ سے یہ کاربن کو ذخیرہ کرنے کا زیادہ مستحکم ذریعہ ثابت ہو رہے ہیں۔

چیلنجز اور خطرات

اتنی بڑی اہمیت کے باوجود، ان جنگلات کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں:

جنگلاتی آگ: گرمیوں کے موسم میں روس کے ان علاقوں میں لگنے والی آگ لاکھوں ایکڑ جنگل کو تباہ کر دیتی ہے، جس سے ذخیرہ شدہ کاربن دوبارہ فضا میں شامل ہو جاتی ہے۔

درختوں کی کٹائی: لکڑی کی بڑھتی ہوئی طلب کی وجہ سے غیر قانونی کٹائی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔

درجہ حرارت میں اضافہ: جیسے جیسے زمین گرم ہو رہی ہے، ان علاقوں کی برف پگھل رہی ہے جس سے درختوں کی صحت پر برا اثر پڑ رہا ہے۔

مستقبل کی ضرورت

موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں روس کے ان جنگلات کا تحفظ اب صرف روس کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک عالمی ضرورت بن چکا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں پیرس معاہدے کے اہداف حاصل کرنے ہیں اور زمین کے درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکنا ہے، تو ہمیں ٹائیگا کے ان درختوں کی حفاظت ہر قیمت پر کرنی ہوگی۔

خلاصہ

روس کے ٹائیگا جنگلات قدرت کا وہ انمول تحفہ ہیں جو خاموشی سے انسانیت کو بڑی ماحولیاتی تباہی سے بچائے ہوئے ہیں۔ ان جنگلات کی دیکھ بھال اور شجرکاری میں اضافہ ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک رہنے کے قابل سیارہ دے سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *