طاہر قریشی بابائے مینگروز، انڈس ڈیلٹا میں مینگروز کے درخت لگاتے ہوئے، پاکستان کے ساحلی جنگلات کے تحفظ کی علامت

پاکستان میں اگر قدرتی ماحول اور ساحلی جنگلات کے تحفظ کی بات کی جائے تو ایک نام احترام سے لیا جاتا ہے — طاہر قریشی، جنہیں محبت اور عقیدت سے “بابائے مینگروز” کہا جاتا ہے۔
یہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے پاکستان کے ساحلی علاقوں، خاص طور پر انڈس ڈیلٹا میں مینگروز جنگلات کی بحالی اور تحفظ کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔

طاہر قریشی کون تھے؟

طاہر قریشی ایک ماحولیاتی کارکن، فطرت سے محبت کرنے والے اور عملی انسان تھے۔ انہوں نے سرکاری عہدوں یا بڑی تنظیموں کے بغیر، صرف جذبے اور محنت کے ساتھ وہ کام کر دکھایا جو اکثر بڑے ادارے بھی نہ کر سکے۔

وہ برسوں تک کراچی کے ساحلی علاقوں اور انڈس ڈیلٹا میں کام کرتے رہے اور مینگروز کے تحفظ کو اپنا مشن بنا لیا۔

بابائے مینگروز کیوں کہا جاتا ہے؟

طاہر قریشی کو “بابائے مینگروز” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ:

انہوں نے لاکھوں مینگروز کے پودے اپنے ہاتھوں سے لگائے

ساحلی علاقوں میں تباہ ہوتے جنگلات کی دوبارہ بحالی کی

مقامی لوگوں کو مینگروز کی اہمیت سے آگاہ کیا

ماہی گیروں کو سمجھایا کہ مینگروز ان کے روزگار کا تحفظ ہیں

ان کی محنت کے نتیجے میں پاکستان آج دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں مینگروز کے رقبے میں اضافہ ہوا ہے۔

مینگروز کے لیے ان کی خدمات (کیا کارنامہ انجام دیا؟)

1. مینگروز کی بڑے پیمانے پر شجرکاری

طاہر قریشی نے حکومت یا وسائل کا انتظار نہیں کیا۔
انہوں نے خود پودے لگائے اور رضاکاروں کو ساتھ ملا کر مینگروز کی شجرکاری شروع کی۔

2. ساحلی علاقوں کا تحفظ

مینگروز نہ ہوتے تو:

سمندری کٹاؤ بڑھ جاتا

طوفان اور سونامی ساحلی آبادیوں کو تباہ کر دیتے

طاہر قریشی نے مینگروز کو ساحلی ڈھال کے طور پر محفوظ کیا۔

3. ماہی گیروں کے روزگار کا تحفظ

انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ:

“مینگروز ختم ہوں گے تو مچھلیاں بھی ختم ہو جائیں گی”

مینگروز مچھلیوں، جھینگوں اور دیگر آبی حیات کی نرسری ہوتے ہیں۔

4. ماحولیاتی شعور بیدار کرنا

انہوں نے اسکولوں، نوجوانوں اور مقامی آبادی کو یہ سکھایا کہ:

ماحول کی حفاظت عیاشی نہیں، ضرورت ہے

مینگروز قدرتی آکسیجن فیکٹری ہیں

یہ کاربن جذب کر کے موسمیاتی تبدیلی کو کم کرتے ہیں

ان کی قربانی

طاہر قریشی نے انتہائی مشکل حالات میں کام کیا۔
سخت موسم، تنہائی، بیماری اور وسائل کی کمی کے باوجود وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے۔

بدقسمتی سے، 2021 میں وہ انتقال کر گئے، مگر ان کا کام آج بھی زندہ ہے۔

طاہر قریشی کا پیغام

ان کا سادہ مگر طاقتور پیغام تھا:

“اگر ہم فطرت کو بچائیں گے، تو فطرت ہمیں بچائے گی”

اختتامیہ

طاہر قریشی صرف ایک فرد نہیں تھے، بلکہ ایک تحریک تھے۔
انہوں نے ثابت کیا کہ ایک عام انسان بھی غیر معمولی تبدیلی لا سکتا ہے۔

آج پاکستان کے مینگروز جنگلات طاہر قریشی کے نام کے گواہ ہیں —
اسی لیے تاریخ انہیں ہمیشہ بابائے مینگروز کے نام سے یاد رکھے گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *