لاہور: صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پالتو شیر کے حملے کا ایک اور دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں ایک 8 سالہ بچے کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ پولیس اور حکام نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔
واقعہ کہاں اور کیسے پیش آیا؟
یہ افسوسناک واقعہ سبزہ زار 80 فٹ روڈ ایریا میں واقع ڈولا بریڈنگ فارم پر پیش آیا، جہاں 8 سالہ واجد علی کھیلتے ہوئے شیروں کے پنچروں کے قریب چلا گیا۔ اسی دوران ایک پالتو شیر نے بچے پر حملہ کر دیا اور اس کا بازو شدید زخمی کر دیا۔
بچے کو ہسپتال منتقل اور علاج
ابتدائی طور پر بچے کو مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ساتھ آنے والوں نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ بچے کا بازو کسی مشین میں جا پھنسا تھا، لیکن طبی ٹیم نے جلد ہی یہ معلوم کیا کہ زخم کسی مشین کے نہیں بلکہ جانور کے حملے کے نتیجے میں آئے ہیں۔ شدید زخمی حالت میں بچے کا بازو بچانے کی کوشش میں کٹانا پڑا تاکہ اس کی جان محفوظ رکھی جا سکے۔
بعد ازاں بچے کو گنگا رام ہسپتال میں مزید طبی امداد اور علاج کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا موقف اور کارروائی
پولیس حکام نے بتایا ہے کہ شیر کے پنچروں کی مناسب سیکیورٹی نہ ہونے اور مالکان کی غفلت کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔ فارم کے مالکان عمر اقبال اور علی اقبال وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ سے لائسنس یافتہ ہونے کے باوجود واقعہ کو پولیس سے چھپانے کی کوشش کر رہے تھے، مگر پولیس نے تفتیش کے بعد دونوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
DIG آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا ہے، اور وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ درج کرنے کے بارے میں کہا گیا ہے۔
شہر میں پالتو جنگلی جانوروں کے خلاف تشویش
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لاہور سمیت پنجاب بھر میں بڑی بلیوں (big cats) کے غیر قانونی رکھنے اور حملوں کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پچھلے چند دنوں میں ایک اور شیرنی کے حملے میں ایک بچی زخمی ہوئی تھی، جس کے بعد پولیس نے کئی غیر قانونی طور پر رکھی گئی شیرنیوں کو تحویل میں لیا تھا۔
