ایمازون کے جنگل میں دریافت ہونے والی پلاسٹک کھانے والی فنگس Pestalotiopsis microspora، جو پولی یوریتھین پلاسٹک کو قدرتی طور پر توڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے

دنیا اس وقت پلاسٹک آلودگی کے سنگین مسئلے سے دوچار ہے۔ سمندر ہوں یا زمین، شہر ہوں یا جنگلات—پلاسٹک ہر جگہ پھیل چکا ہے اور سینکڑوں سال تک ختم نہیں ہوتا۔ ایسے میں ایمازون کے گھنے بارانی جنگلات سے سامنے آنے والی ایک سائنسی دریافت نے امید کی ایک نئی کرن روشن کی ہے۔

نایاب فنگس کی دریافت

سائنسدانوں نے ایمازون کے جنگل میں ایک نایاب قسم کی فنگس دریافت کی ہے جس کا نام Pestalotiopsis microspora ہے۔ یہ فنگس عام فنگس سے بالکل مختلف ہے کیونکہ یہ پولی یوریتھین پلاسٹک کو توڑنے اور ہضم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پولی یوریتھین وہ پلاسٹک ہے جو عام طور پر پیکنگ، فوم، انسولیشن، جوتوں، فرنیچر اور بے شمار روزمرہ اشیاء میں استعمال ہوتا ہے۔

بغیر آکسیجن کے پلاسٹک کو ختم کرنے کی صلاحیت

اس فنگس کی سب سے حیران کن خصوصیت یہ ہے کہ یہ آکسیجن کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے اور پلاسٹک کو اپنی خوراک بنا سکتی ہے۔ یہ صلاحیت اسے خاص طور پر اہم بناتی ہے، کیونکہ دنیا بھر کے بیشتر کچرے کے ڈھیر (لینڈفلز) زمین کے اندر ہوتے ہیں جہاں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور عام بیکٹیریا یا فنگس کام نہیں کر پاتے۔

پلاسٹک کو خوراک بنانا کیسے ممکن ہے؟

جہاں عام طور پر پلاسٹک صدیاں گزرنے کے باوجود برقرار رہتا ہے، وہاں Pestalotiopsis microspora پلاسٹک کو کاربن کے ذریعہ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ یہ فنگس آہستہ آہستہ پلاسٹک کے مالیکیولز کو توڑ کر انہیں سادہ کیمیائی اجزاء میں بدل دیتی ہے، جس سے پلاسٹک کی ساخت کمزور ہو کر ختم ہونے لگتی ہے۔

تحقیق کا موجودہ مرحلہ

اگرچہ یہ دریافت انتہائی امید افزا ہے، لیکن ماہرین کے مطابق یہ تحقیق ابھی لیبارٹری سطح تک محدود ہے۔ اسے عالمی سطح پر کچرے کے مسئلے کے حل کے طور پر استعمال کرنے کے لیے مزید تحقیق، وقت اور وسائل درکار ہیں۔ یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا اس فنگس کو محفوظ طریقے سے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

قدرتی حل اور انسانی ذمہ داری

یہ دریافت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قدرت کے اندر بہت سے ایسے حل موجود ہیں جنہیں ہم نے ابھی پوری طرح نہیں سمجھا۔ تاہم، صرف فنگس پر انحصار کرنا کافی نہیں ہوگا۔ پلاسٹک آلودگی کے خاتمے کے لیے ری سائیکلنگ، پلاسٹک کے کم استعمال، مؤثر قوانین، اور عوامی شعور بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔

پائیدار مستقبل کی امید

Pestalotiopsis microspora اس بات کی مثال ہے کہ پائیدار مستقبل ہمیشہ نئی ایجاد سے نہیں آتا بلکہ کئی بار قدرت کے راز دریافت کرنے سے سامنے آتا ہے۔ اگر انسان سائنس اور فطرت کے ساتھ مل کر کام کرے تو پلاسٹک جیسے بڑے مسئلے کا حل ممکن ہے۔

نتیجہ

ایمازون کے جنگلات سے ملنے والی یہ فنگس نہ صرف ایک سائنسی کامیابی ہے بلکہ انسانیت کے لیے ایک پیغام بھی ہے—کہ قدرت کے ساتھ ہم آہنگی میں ہی ہماری بقا اور زمین کا مستقبل محفوظ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *