لودھراں (پنجاب) — پاکستان بھر میں آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، لیکن یہ اب تک صرف گرمیوں کے چند مہینوں میں ہی دستیاب ہوتا رہا ہے۔ حال ہی میں لودھراں کے بعض علاقوں سے ایسی خبریں اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ آم سال کے دوسرے مہینوں، حتیٰ کہ سردیوں میں بھی درختوں پر لگ رہا ہے۔
یہ خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور لوگ حیران ہیں کہ کیا واقعی پاکستان میں آم اب پورا سال دستیاب ہو سکے گا۔
آم کا اصل موسم کیا ہے؟
عام طور پر پاکستان میں آم کا موسم مئی سے ستمبر تک ہوتا ہے۔ ان مہینوں میں سندھڑی، چونسا، لنگڑا اور انور رٹول جیسے مشہور آم بازاروں میں آتے ہیں۔ سردیوں میں آم کا درخت پھل نہیں دیتا، اس لیے یہ خبر سب کے لیے چونکا دینے والی ہے۔
لودھراں میں کیا خاص ہو رہا ہے؟
لودھراں جنوبی پنجاب کا ایک زرعی علاقہ ہے جو پہلے ہی اعلیٰ معیار کے چونسا آم کے لیے مشہور ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق بعض کسانوں کے باغات میں موسم سے ہٹ کر آم نظر آئے ہیں، جس کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ:
آم ایک موسمی پھل ہے
عام حالات میں آم کا درخت سردیوں میں پھل نہیں دیتا
ممکن ہے یہ کسی خاص تجربے، دیر سے پکنے والی قسم، یا محدود پیمانے پر کی گئی کاشت ہو
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ بعض اوقات اسٹوریج اور محفوظ طریقوں سے رکھے گئے آم بازار میں بعد میں آتے ہیں، جس سے لوگوں کو لگتا ہے کہ آم نیا اور تازہ ہے۔
کیا آم واقعی پورا سال مل سکے گا؟
فی الحال کوئی سرکاری یا سائنسی تصدیق موجود نہیں کہ لودھراں یا پاکستان میں آم کی باقاعدہ طور پر سال بھر پیداوار شروع ہو گئی ہے۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ کسان نئی تکنیکوں پر کام کر رہے ہیں، جو مستقبل میں آم کے موسم کو کچھ حد تک بڑھا سکتی ہیں۔
امید کی ایک کرن
لودھراں کی یہ خبر پاکستان کی زراعت کے لیے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ اگر تحقیق اور جدید طریقوں سے آم کا موسم بڑھایا جا سکے تو اس سے:
کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے
آم کی برآمدات کو فائدہ پہنچ سکتا ہے
عوام کو زیادہ عرصہ آم میسر آ سکتا ہے
