بلوچستان میں خشک سالی: جنگلی حیات شدید خطرے میں
بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، مگر حالیہ برسوں میں یہاں شدید خشک سالی نے قدرتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بارشوں کی کمی، چشموں کا خشک ہو جانا اور پانی کے ذخائر ختم ہونے کے باعث جنگلی جانوروں کی بقا خطرے میں پڑ چکی ہے۔
پانی کی شدید قلت اور قدرتی وسائل کا زوال
بلوچستان کے کئی علاقوں میں طویل عرصے سے بارش نہ ہونے کے سبب:
ندی نالے اور چشمے خشک ہو گئے ہیں
چراگاہیں بنجر ہو چکی ہیں
جنگلی جانور پانی اور خوراک کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں
محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے مطابق، گرمیوں میں درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
مارخور سمیت نایاب جانوروں کو خطرات
پاکستان کا قومی جانور مارخور بھی اس خشک سالی سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔
مارخور عام طور پر پہاڑی علاقوں میں رہتا ہے اور قدرتی چشموں پر انحصار کرتا ہے، مگر:
پانی کی کمی کے باعث مارخور اپنے قدرتی مسکن چھوڑنے پر مجبور ہے
کمزوری اور بھوک کے باعث ان کی تعداد میں کمی کا خدشہ ہے
ہرن، آئی بیکس اور دیگر پہاڑی جانور بھی اسی مشکل کا شکار ہیں
ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے برسوں میں یہ جانور ناپید بھی ہو سکتے ہیں۔
دیگر جنگلی حیات پر اثرات
خشک سالی صرف مارخور تک محدود نہیں بلکہ:
ہرن اور جنگلی بکرے
لومڑیاں، بھیڑیے اور دیگر درندے
پرندے اور چھوٹے جانور
سب ہی قدرتی توازن بگڑنے کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔ خوراک اور پانی کی قلت کے باعث جانور آبادیوں کے قریب آ رہے ہیں، جس سے انسانی و جنگلی تصادم کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
سرکاری اور ماحولیاتی خدشات
ماحولیاتی ماہرین اور سرکاری ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ:
اگر ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو بلوچستان کا قدرتی نظام ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو سکتا ہے
جنگلی حیات کے لیے مصنوعی پانی کے ذخائر اور نگرانی ضروری ہے
طویل مدتی ماحولیاتی پالیسیوں پر فوری عملدرآمد ناگزیر ہے
یہ مسئلہ کیوں اہم ہے؟
بلوچستان کی یہ صورتحال صرف ایک صوبے تک محدود نہیں بلکہ:
یہ موسمیاتی تبدیلی کی واضح مثال ہے
حیاتیاتی تنوع کو شدید خطرہ لاحق ہے
قدرتی نظام کا بگاڑ انسانی زندگی پر بھی اثرانداز ہوگا
قدرت کا تحفظ دراصل ہماری اپنی بقا کا تحفظ ہے۔
نتیجہ
بلوچستان میں جاری خشک سالی ایک سنگین ماحولیاتی بحران بن چکی ہے۔
اگر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو نایاب جنگلی حیات، خصوصاً مارخور، ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، ماہرین اور عوام مل کر قدرت کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔
