جانور آفت سے پہلے کیسے جان لیتے ہیں؟
قدرت کا خفیہ انتباہی نظام — سچ، سائنس اور حقیقت
انسان خود کو زمین کی سب سے ذہین مخلوق سمجھتا ہے، مگر جب بات قدرتی آفات کی پیش گوئی کی آتی ہے تو اکثر جانور ہم سے کہیں آگے نظر آتے ہیں۔ تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ زلزلے، سونامی، آتش فشاں، طوفان اور سیلاب سے پہلے جانوروں نے ایسا غیر معمولی رویّہ اختیار کیا جو بعد میں آنے والی تباہی کا واضح اشارہ ثابت ہوا۔
تاریخی مشاہدات
قدیم چین، یونان اور ہندوستان کی تحریروں میں ذکر ملتا ہے کہ زلزلے سے پہلے سانپ اپنے بلوں سے نکل آتے تھے، مچھلیاں پانی کی سطح پر بے چینی سے اچھلنے لگتی تھیں اور پرندے اپنی سمت بدل لیتے تھے۔ یہ مشاہدات صدیوں پرانے ہیں، جب سائنس جدید شکل میں موجود بھی نہیں تھی۔
2004 کا سونامی — دنیا کو چونکا دینے والا واقعہ
26 دسمبر 2004 کو آنے والا سونامی جدید تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک تھا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ سری لنکا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا میں ہاتھی ساحل چھوڑ کر اونچی زمین کی طرف بھاگ گئے، فلیمنگو اور دیگر پرندے اچانک سمندر سے دور اُڑ گئے، اور گھریلو جانور غیر معمولی شور مچانے لگے۔
ان علاقوں میں جہاں انسانوں نے جانوروں کے رویّے پر دھیان دیا، وہاں جانی نقصان نسبتاً کم ہوا۔
سائنس کیا کہتی ہے؟
سائنسدانوں کے مطابق جانور درج ذیل چیزیں محسوس کر سکتے ہیں
زمین کے اندر ہونے والی ہلکی کمپن (Seismic vibrations)
مقناطیسی میدان میں تبدیلی
ہوا کے دباؤ میں اچانک فرق
انتہائی کم فریکوئنسی آوازیں (Infrasound)
یہ وہ سگنلز ہیں جو انسانی حواس محسوس نہیں کر پاتے، مگر جانوروں کے لیے یہ ایک واضح خطرے کی گھنٹی ہوتے ہیں۔
کون سے جانور سب سے زیادہ حساس ہیں؟
ہاتھی: زمین کی کمپن پاؤں سے محسوس کرتے ہیں
کتے: کم فریکوئنسی آوازیں سن سکتے ہیں
پرندے: مقناطیسی میدان سے سمت پہچانتے ہیں
مچھلیاں: پانی کے دباؤ میں معمولی تبدیلی محسوس کر لیتی ہیں
انسان نے کیا کھو دیا؟
انسان نے ٹیکنالوجی پر اتنا انحصار کر لیا ہے کہ قدرتی اشاروں کو نظرانداز کرنا سیکھ لیا ہے۔ ہم جانوروں کے رویّے کو “عام” سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی رویّہ ہمیں خبردار کر سکتا ہے۔
قدرت کا پیغام
جانور ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ قدرت ہمیشہ پہلے اشارہ دیتی ہے — بس سننے والا چاہیے۔
اگر انسان قدرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے، تو بہت سی تباہیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
