قدرت کی اس وسیع کائنات میں ایسے بے شمار جاندار موجود ہیں جو اپنی ظاہری شکل و صورت یا اپنی خصوصیات کی بنا پر انسان کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک ننگا مولی ریٹ (Naked Mole-Rat) ہے، جسے افریقہ کا “ریت کا تالاب” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چھوٹا سا جانور نہ صرف دکھنے میں عجیب ہے بلکہ اس کی حیاتیاتی خصوصیات سائنسدانوں کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں۔
ظاہری شکل و صورت
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، اس چوہے کے جسم پر بال نہیں ہوتے اور اس کی جلد جھریوں والی اور گلابی مائل ہوتی ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے باہر نکلے ہوئے لمبے دانت ہیں، جو اسے زمین کھودنے میں مدد دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اپنے ہونٹ بند رکھ کر بھی دانتوں سے کھدائی کر سکتا ہے تاکہ مٹی اس کے منہ میں نہ جائے۔
حیرت انگیز خصوصیات جو اسے دوسروں سے ممتاز بناتی ہیں
1. درد کا احساس نہ ہونا: ننگا مولی ریٹ دنیا کا واحد میمل (دودھ پلانے والا جانور) ہے جس کی جلد میں تیزاب یا جلن کی صورت میں درد کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کے اعصابی نظام میں وہ خاص کیمیکل نہیں پایا جاتا جو دماغ تک درد کا سگنل پہنچاتا ہے۔
2. کینسر سے محفوظ: سائنسدان اس جانور پر برسوں سے تحقیق کر رہے ہیں کیونکہ اس میں کینسر کے خلاف حیرت انگیز مدافعت پائی جاتی ہے۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق، ان کے خلیات میں ایک خاص مادہ پایا جاتا ہے جو رسولی (Tumor) بننے کے عمل کو روکتا ہے۔
3. طویل عمری کا راز: عام طور پر چھوٹے چوہے 2 سے 3 سال تک زندہ رہتے ہیں، لیکن ننگا مولی ریٹ 30 سال سے زیادہ عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ اپنی جسامت کے لحاظ سے کسی بھی دوسرے چوہے کے مقابلے میں دس گنا زیادہ لمبی عمر پاتا ہے۔
4. بغیر آکسیجن کے زندہ رہنا: اگر کسی جگہ آکسیجن بالکل ختم ہو جائے، تب بھی یہ جانور تقریباً 18 سے 20 منٹ تک زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ اپنی میٹابولزم کو پودوں کی طرح تبدیل کر کے توانائی حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے۔
سماجی زندگی: شہد کی مکھیوں جیسا نظام
ننگا مولی ریٹ کی سماجی زندگی انتہائی منظم ہوتی ہے۔ یہ شہد کی مکھیوں یا چیونٹیوں کی طرح ایک کالونی میں رہتے ہیں، جس کی سربراہ ایک ملکہ (Queen) ہوتی ہے۔ صرف ملکہ ہی بچے پیدا کرتی ہے، جبکہ باقی تمام ممبران مزدوروں کے طور پر کام کرتے ہیں، سرنگیں بناتے ہیں اور خوراک تلاش کرتے ہیں۔
نتیجہ
ننگا مولی ریٹ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خوبصورتی صرف ظاہری شکل میں نہیں ہوتی۔ یہ چھوٹا سا، بغیر بالوں والا جانور مستقبل میں انسانوں کے لیے کینسر کے علاج اور بڑھاپے کو روکنے والی ادویات کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔